بین الاقوامی جوہری توانائی ادارہ کا دعویٰ ۔ مقررہ حدود کی خلاف ورزی کا بھی الزام
وینا ۔ ایران کی جانب سے افزودہ یورانیم کے ذخیرہ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور یہ یورانیم تاریخی نیوکلئیر معاہدہ میں مقرر کی گئی حد سے زیادہ ہے ۔ ایران کا عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت ایران کو ایک حد تک افزدہ یورانیم رکھنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ اقوام متحدہ کے جوہری توانائی ادارہ کا دعوی ہے کہ ایران میں یورانیم کا ذخیرہ اب بھی کیا جا رہا ہے اور یہ مقررہ حد سے زیادہ ہے ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ارکان میں تقسیم کی گئی ایک خفیہ رپورٹ میں یہ ادعا کیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ایران میں جملہ 2,442.9 کیلوگرام کم افزودگی والی یورانیم موجود ہے جبکہ اگسٹ میں یہ یورانیم 2,105.4 کیلوگرام تک ہی تھی ۔ امریکہ ‘ جرمنی ‘ فرانس ‘ برطانیہ ‘ چین اور روس کے ساتھ 2015 میں ایران کا ایک معاہدہ طئے پایا تھا جس کے تحت ایران کو ایک مقررہ حد تک افزودہ یورانیم رکھنے کی اجازت حاصل ہوئی تھی تاہم اب بین الاقوامی جوہری توانائی ادارہ کا دعوی ہے کہ ایران کے پاس ایسی یورانیم کے ذخیرہ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ادارہ کا دعوی ہے کہ ایران کی جانب سے یورانیم کی افزودگی کا عمل بھی جاری ہے ۔ جو معاہدہ عالمی طاقتوں کے ساتھ کیا گیا تھا اس کے تحت ایران سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اسے معاشی مراعات اپنے نیوکلئیر پروگرام پر تحدیدات کے عوض میں دی جائیں گی ۔ امریکہ نے بعد میں اس معاہدہ سے علیحدگی اختیار کرلی تھی اور ایران کے خلاف تازہ تحدیدات عائد کردی تھیں۔ اس کے بعد سے ایران افزودگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے اور معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسرے ممالک پر دباو ڈال رہا ہے کہ وہ اس پر عائد کردہ تحدیدات کو ختم کروانے میں سرگرم رول ادا کریں۔ ساتھ ہی ایرانی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی جوہری توانائی ادارہ کے انسپکٹرس کو اپنی نیوکلئیر تنصیبات تک مکمل رسائی بھی دے رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاہدہ کے شریک دوسرے ممالک کا کہنا ہے کہ معاہدہ کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے ۔ اس معاہدہ کا اصل مقصد یہ تھا کہ ایران کو نیوکلئیر ہتھیار تیار کرنے سے روکا جائے جبکہ خود ایران کا کہنا ہے کہ وہ نیوکلئیر ہتھیار تیار کرنا نہیں چاہتا وہ صرف اپنی توانائی ضرورت کو پورا کرنے یہ پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے ۔