ایران پر امریکی فضائی حملے جاری، آبنائے ہرمز میں کشیدگی

,

   

بحری محاصرے کا اعلان۔ تہران حکومت کیساتھ ممکنہ معاہدے کے دروازے مکمل بند نہیں کئے : صدرٹرمپ

تہران ۔ 15 جولائی (ایجنسیز) امریکہ نے ایران پر ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کرتے ہوئے جنوبی ایران کے متعدد عسکری اور توانائی سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ کارروائیاں ایرانی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کیے جانے سے چند گھنٹے قبل کی گئیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اگرچہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑی عسکری کشیدگی قرار دی جا رہی ہے۔امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق مسلسل تیسری رات بندر عباس اور بوشہر میں ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں ساحلی دفاعی نظام، ڈرون مراکز، میزائل تنصیبات اور بحری سازوسامان کو تباہ کیا گیا۔ امریکی طیاروں نے عراق کی سرحد کے قریب واقع ایرانی صوبہ خوزستان میں بھی حملے کیے، جہاں آباد اُن کی تاریخی آئل ریفائنری اور پٹروکیمیکل مرکز ماہشہر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے متعدد دھماکوں کی تصدیق کی ہے جبکہ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاری لڑائی میں اب تک کم از کم 28 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔امریکی کارروائیوں کے جواب میں ایران نے خلیجی خطے اور اردن میں موجود امریکی عسکری اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین کے الجفیر بحری اڈے اور اردن کے ایک فضائی اڈے پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔اردنی فوج کے مطابق چار ایرانی میزائل فضاء ہی میں تباہ کر دیے گئے، جس سے ممکنہ بڑے نقصان کو ٹال دیا گیا۔آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات کے دو آئل ٹینکروں پر ایرانی میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں بھارتی عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔ بھارت نے اس واقعے پر تہران سے سخت احتجاج کیا ہے۔اسی دوران عمان کے ساحل کے قریب ایک ناروے کے آئل ٹینکر میں بھی دھماکے کی اطلاع ملی، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا۔صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل 87.51 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 81.21 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وقت کے مطابق گزشتہ شب 8 بجے سے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ دوبارہ نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ ایران کی تیل برآمدات کو مزید محدود کیا جاسکے۔انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر 20 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے اپنے منصوبے کا بھی اعادہ کیا۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کا محافظ رہا ہے اور رہے گا۔چین نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جائے اور خطے کے ممالک کے حقوق کا احترام کیا جائے۔ ادھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کو آگاہ کر دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی دوبارہ باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششوں کو شدید جھٹکا پہنچا ہے۔