تہران ۔ 10 جولائی (ایجنسیز) ایرانی میڈیا نے ملک کے جنوب میں واقع شہر بوشہر میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی اطلاع دی ہے۔بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ جو ایران اور مشرق وسطیٰ میں نیوکلیئر توانائی سے بجلی پیدا کرنے والی پہلی تنصیب ہے بوشہر شہر کے جنوب مشرق میں 17 کلومیٹر کے فاصلے پر خلیج عرب کے ساحل کے ساتھ واقع ہے۔ یہ تنصیب تقریباً 2.5 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں ری ایکٹر کی عمارت اور دیگر معاون ڈھانچے شامل ہیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان جمعرات کے روز نئی لڑائی شروع ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ میں کئی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ کشیدگی سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی ان کے آبائی شہر مشہد میں تدفین کی تقریبات شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل سامنے آئی ہے۔ایرانی وزارت صحت نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں گذشتہ دو روز کے دوران کم از کم 14 افراد ہلاک اور 78 زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت صحت کے تعلقات عامہ کے سربراہ حسین کرمانپور نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں وضاحت کی کہ جنگ بندی کے دوران امریکہ نے چہارشنبہ اور جمعرات کو ایران کے 5 صوبوں کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک 14 افراد ہلاک اور 78 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 47 افراد اب بھی ہاسپٹلس میں زیر علاج ہیں۔
یہ کشیدگی آبنائے ہرمز میں 3 تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ امریکی حملے انہی کے جواب میں کیے گئے جبکہ تہران نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔