ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی اہمیت

   

محمد ریاض احمد

ساری دنیا فی الوقت ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی چھیڑی گئی جنگ کے نتیجہ میں افراتفری کا شکار ہے۔ ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کو کئی ایک محاذوں پر بے شمار مسائل بلکہ پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ اس جنگ کے باعث ساری دنیا میں مہنگائی اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ خود ہمارے ملک میں گھریلو اور کمرشیل پکوان گیس کی قیمتیں بالترتیب 60 روپئے اور 115 روپئے بڑھادیئے گئے ۔ اگر قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا تو اتنا برا نہیں لگتا جتنا آج عوام کو گیس سلینڈرس کی قلت کی وجہ سے بہت برا لگا ہے۔ گیس سلینڈرس کی قلت کا اثر خاص طور پر ہوٹلوں ، ریسٹورینٹس ، کھانے پینے کی اشیاء ، فروخت کرنے والے ٹفن سنٹروں یہاں تک کہ سڑک کنارے لوگوں کو سستا کھانا فراہم کرنے والی اڈل دوسہ کی بنڈیوں پر پڑا ہے۔ ملک کے کئی شہرں میں ہوٹلس اور ریسٹورنٹس بند کردی گئیں ہیں، اس بارے میں حقوق انسانی کے جہدکار اور فلم اداکار پرکاش راج نے بہت خوب کہا ہے کہ گیس سلینڈرس کا بحران نہ صرف گھروں میں بلکہ شمشان گھاٹوں میں بھی داخل ہوگیا ہے اور اس بحران کیلئے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت ذمہ دار ہے ۔ اپوزیشن نے بھی لوک سبھا میں اور ایوان کے باہر بھی اس مسئلہ پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ کانگریس نے تو بی جے پی کے نعرہ ’’مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ کا یہ کہتے ہوئے مضحکہ اڑایا ہے کہ مودی ہے تو مہنگائی ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ بھکتوں کی عقل ابھی بھی ٹھکانہ نہیں آئی۔ کم از کم انہیں موجودہ حالات میں یہ سوچنا چاہئے کہ 2014 سے آج کی تاریخ تک مودی جی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے ملک اور عوام کا کیا بھلا کیا ؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور حکومت میں ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر 55-60 روپئے ہوا کرتی تھی یعنی ایک امریکی ڈالر 55 سے لے کر 60 روپئے کے برابر ہوا کرتا تھا جس کے خلاف اس وقت گجرات کے عہدہ چیف منسٹری پر فائز نریندر مودی ڈاکٹر منموہن سنگھ حکومت پر صرف تنقید ہی نہیں کرتے تھے بلکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ جیسے دانشور اور عالمی سطح پر مشہور و معروف ماہر اقتصادیات کے خلاف بیہودہ ریمارکس کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ اب جبکہ ڈالر کے مقابلہ روپئے کی قدر مسلسل گرتی جارہی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ سردست روپئے کی قدر میں تاریخ کی سب سے بڑی گراوٹ آئی ہے اور وہ 92.42 تک پہنچ گیا ہے ۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں روپئے کی قدر مزید گرجائے گی اور ایک ڈالر 95 روپئے کے برابر ہوجائے گا۔ راقم الحروف کے خیال میں وہ دن دور نہیں جب ایک ڈالر 100 روپئے کے مساوی ہوگا اور اس کا کریڈٹ مودی جی کو جا ئے گا ۔ بہرحال ہم ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے ناجائز و غیر قانونی حملوں کی بات کر رہے تھے اگر دیکھا جائے تو آج دنیا میں جو افراتفری ہے خام تیل کی قیمتوں میں جو بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے ۔ بے چینی اور مہنگائی بڑھ رہی ہے ، انسانی جانوں کا اتلاف ہورہا ہے، اس کے لئے اسرائیل اور امریکہ ذمہ دار ہیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اب سپر پاور باقی نہیں رہا بلکہ اسرائیل کا آرڈرلی Orderly بن گیا ہے ۔ غزہ کا قصائی نتن یاہو ، ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق استعمال کرتا جارہا ہے ۔ با الفاظ دیگر نتن یاہو اور اسرائیل ٹرمپ، امریکہ کو بیوقوف بناکر اپنے مفادات کے حصول اور اپنی بقاء کو یقینی بنانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ایران کے خلاف ا مریکہ اسرائیل کی لڑائی لڑ رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایران پر غیر قانونی و ناجائز جنگ مسلط کرنے سے متعلق امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ روبیو کا بیان آتا ہے کہ امریکہ دباؤ کے نتیجہ میں میدان جنگ میں کود پڑا ہے جبکہ ٹرمپ کہتے ہیں کہ ان پر کسی نے دباؤ نہیں ڈالا ہے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان دونوں میں سے سچ کون کہہ رہا ہے اور جھوٹ کون بول رہا ہے ۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو ان دونوں میں کوئی ایک تو جھوٹا ضرور ہے۔ جہاں تک ایران پر اسرائیل ۔امریکہ کی جانب سے جنگ مسلط کرنے کا سوال ہے ، اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دنیا کے بدترین دلال جنفری ایبسٹن کی فائلز منظر عام پر آنے کے بعد کئی عالمی قائدین کے سیاہ چہرے منظر عام پر آئے ہیں جن میں ڈونالڈ ٹرمپ کا چہرہ بھی شامل ہے ۔ 6 ہندوستانیوں بشمول وزیراعظم نریندر مودی کا نام بھی آیا ہے ۔ ٹرمپ کے بارے میں خود سابق امریکی صدر بل کلکنٹن نے جو انکشافت کئے ہیں، اس کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ جیفری ایبسٹن کی فائلز سے عوامی توجہ ہٹانے کی خاطر جنگ میں کود پڑا جبکہ نتن یاہو کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی کہ امریکہ ایران کو تباہ و برباد کرے۔ دوسری جانب ہمارے وزیراعظم کے دورہ اسرائیل سے واپسی کے فوری بعد ایران کے خلاف جنگ کا شروع ہونا اس جنگ میں پہلے ہی حملہ میں 180 سے زائد ایرانی طالبات کی شہادت ، پھر ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای و دیگر ارکان خاندان کی شہادت اس کے علاوہ آندھراپردیش کے وشاکھا پٹنم میں منعقدہ بحری مشق میں حصہ لے کر واپس جانے والے ایرانی جہاز (اس میں 17 8 ایرانی ملاح سوار تھے) پر امریکی حملہ کے باوجود حکومتی سطح پر کسی قسم کی مذمت نہیں کی گئی ۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر 6 دن تک انتظار کے بعد اظہار تعزیت کیا گیا ۔ اس کے باوجود ایرانی حکومت نے کم ظرفی کا جواب اعلیٰ ظرفی سے دیا جو یقیناً قابل غور ہے جو ہمیں اس بات پر غو کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ آخر ہندوستان کے تئیں ایران کے اس موقف کے پیچھے کونسی وجوہات کارفرما ہے ۔ حالانکہ مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت پوری طرح اسرائیل اور