ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ اب بھی ممکن: میکرون

   

پیرس : فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون نے ہفتہ کے روز اپنے ایرانی ہم منصب ابراہیم رئیسی سے ایک فون کال کے دوران کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر 2015 کے معاہدے کو بحال کرنا “اب بھی ممکن ہے، بشرطیکہ یہ جلد از جلد کیا جائے”۔فرانسیسی ایوان صدر نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ میکرون نے ویانا میں کئی مہینوں تک مذاکرات کی معطلی کے بعد “پیش رفت نہ ہونے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا اور صدر رئیسی کے ساتھ اصرار کیا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے اور ایران کی طرف سے جوہری معاہدے کی شرائط پر واپسی کو یقینی بنانا ہوگا۔ایک اور سیاق و سباق میں، میکرون نے چار فرانسیسی شہریوں کی رہائی پر زور دیا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایران میں “من مانی طور پر حراست میں لیا گیا ہے”۔۔انٹیلی جنس ادارے ” MI6‘‘ کے سربراہ رچرڈ مور نے کولوراڈو میں اسپین سیکیورٹی فورم کو بتایا’مجھے نہیں لگتا کہ ایرانی ایسا چاہتے ہیں۔کوئی پیش رفت نہیں‘۔قابل ذکر ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جون کے آخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی، جس میں یورپی یونین نے ثالثی کا کردار دا کیا تھا۔ اس بات چیت کا مقصد اپریل 2021 میں شروع ہونے والے ویانا مذاکرات کو بحال کرنا تھا اور 2015 کے معاہدے (جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن) پر عمل درآمد کرانا تھا۔