نیویارک : اقوام متحدہ کے نیوکلیر نگران ادارے نے جمعہ کو کہا کہ ایران اپنی دو اہم نیوکلیر تنصیبات فردو اور نتانز میں ہزاروں جدید سینٹری فیوجز کے ساتھ یورانیم کی افزودگی شروع کر دے گا، جس سے تہران کے پروگرام پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گاجو اس وقت ہتھیاروں کی سطح کے قریب افزودگی کررہا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے نوٹس میں صرف اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ایران نئے سینٹری فیوجز کے ساتھ یورانیم کو 5 فیصد خالصتاً افزودہ کر رہا ہے، جو کہ اس وقت کے 60 فیصد کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔ ممکنہ طور پر یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اب بھی مغرب اور نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی آنے والی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کرنے کا خواہش مندہے۔ 2018 میں سابق صدر ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ اس معاہدے سے الگ ہوگیا تھا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے آئی اے ای اے کی رپورٹ پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ تہران نے اپنے نیوکلیر پروگرام کو اس وقت تیزی سے آگے بڑھانے کی دھمکی دی تھی جب IAEA کے بورڈ آف گورنرز نے اپنے نومبر میں ہونے والے ایک اجلاس میں ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کرنے میں ناکامی پر ایران کی مذمت کی تھی۔ ایک بیان میں، IAEA نے ان منصوبوں کا خاکہ پیش کیا جن کے بارے میں ایران نے اسے آگاہ کیاہے، ان میں اس کے جدید ترین IR-2M، IR-4 اور IR-6 سینٹری فیوجز کے تقریباً 45 ’کاسکیڈز‘ میں یورانیم کی افزودگی شامل ہے۔ Cascades سینٹری فیوجز کا ایک گروپ ہے جو یورانیم کو زیادہ تیزی سے افزودہ کرتا ہے۔ ان جدید سینٹری فیوجز میں سے ہر ایک ایران کے ان بنیادی IR۔1 سینٹری فیوجز سے زیادہ تیزی سے یورانیم کو افزودہ کرتا ہے جو ایک طویل عرصے سے تہران کے نیوکلیر پروگرام کا قابل بھروسہ حصہ رہے ہیں۔