ایس آئی آر فیصلوں پر سپریم کورٹ نے گیانیش کمار کی یکطرفہ معطلی سے انکارکیا

,

   

نئی دہلی، 5 اکتوبر (یواین آئی) سپریم کورٹ نے پیر کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر کوئی بھی یکطرفہ عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا۔عدالت نے واضح کیا کہ خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) سے جڑے اہم فیصلے چیف الیکشن کمشنر کے یکطرفہ طور پر لیے جانے کے الزامات پر وہ پہلے الیکشن کمیشن اور دیگر مدعا علیہان کا موقف سنے گی۔ چیف جسٹس سوریا کاَنت کی سربراہی والی بنچ نے درخواست پر مرکزی حکومت، الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، الیکشن کمشنرز ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی، ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ (آئی اے ایس) اور ڈائریکٹر جنرل (آئی ٹی) سیما کھنہ کو نوٹس جاری کیا ۔ بنچ میں چیف جسٹس کے ساتھ جسٹس جوائے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا بھی شامل ہیں۔یہ درخواست ‘دی انڈین ایکسپریس’ کی اس رپورٹ کے بعد دائر کی گئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دو دیگر الیکشن کمشنروں کے اعتراضات کے باوجود چیف الیکشن کمشنر نے الیکشن کمیشن کے نام پر ایس آئی آر سے متعلق 14 اہم فیصلے لیے ۔درخواست گزار راکیش کمار سنگھ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے عبوری اقدام کو ضروری قرار دیتے ہوئے گیانیش کمار کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سی ای سی ایکٹ کا حوالہ دیا، جس کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلے اتفاق رائے سے ہونے چاہئیں یا پھر اکثریت کی بنیاد پر طے ہونے چاہئیں۔ بنچ نے تاہم واضح کیا کہ وہ پہلے یہ جانچے گی کہ آیا قانون کی کوئی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں اور مدعا علیہان کا موقف معلوم کرے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر قانون کی خلاف ورزی پائی گئی تو اسے منسوخ کر دیا جائے گا، جبکہ جسٹس جوائے مالیا باگچی نے سوال اٹھایا کہ کیا دوسرے فریق کو سنے بغیر ایسا حکم جاری کیا جا سکتا ہے ۔عدالت نے تمام مدعا علیہان کو نوٹس جاری کر دیا ہے ۔ اس کے علاوہ، وکیل شیلیندر مَنی ترپاٹھی کی جانب سے دائر ایک اور متعلقہ درخواست پر بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے ، جس میں مبینہ یکطرفہ فیصلوں کو منسوخ کرنے اور ایس آئی آر کے عمل کی آزادانہ تحقیقات کی مانگ کی گئی ہے ۔