ایس سی / ایس ٹی میں ذیلی زمرہ کی اجازت ‘سپریم کورٹ کا فیصلہ

   

چیف جسٹس چندر چوڑ کی آئینی بنچ نے-1 6کی اکثریت کے ساتھ فیصلہ سنایا۔ مزید پسماندہ لوگوں کو علحدہ کوٹہ ملے گا

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایس سی / ایس ٹی ریزرویشن کے بارے میں بڑا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ ایس سی-ایس ٹی کے درمیان ذیلی زمرہ بنا کر زیادہ پسماندہ لوگوں کو علیحدہ کوٹہ دینے کی اجازت ہے۔ یہ فیصلہ سات ججوں کیآئینی بنچ نے 6-1کی اکثریت کے ساتھ سنایا جس میں سے ایک جج نے کہا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ او بی سی پر لاگو کریمی لیئر کا اصول ایس سی / ایس ٹیزپر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ا سآئینی بنچ میںچیف جسٹسآف انڈیا جسٹس ی وائی چندر چوڑ، جسٹس بیآر گاوائی، جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس بیلا ایم ترویدی، جسٹس پنکج متل، جسٹس منوج مشرا نے فیصلہ کی تائیدکی اور جسٹس ستیش چندر شرما نے اکثریت کے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ چھ جج اس فیصلے کے حق میں ہیں، اور یہ سبھی متفق ہیں۔ اس طرح اکثریت نے 2004 میں ای وی چنایہ بنام حکومت آندھرا پردیش کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے دیے گئے فیصلہ کو مسترد کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایس سی-ایس ٹی کے ریزرویشن میں ذیلی درجہ بندی کی اجازت نہیں ہے۔اس بنچ نے بنیادی طور پر دو پہلوئواں پر غور کیا، پہلا یہ کہآیا محفوظ ذاتوں کی ذیلی زمرہ بندی کی اجازت دی جانی چاہیے اور دوسرا، ای وی چنایہ بنام ریاستآندھرا پردیش کے معاملے میں دیے گئے فیصلے کی درستگی، جس نے کہا تھا کہ دفعہ 341 کے تحت یکساں گروہ ہیں اور مزید ذیلی درجہ بندی نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے کہا ہے کہ درج فہرست ذاتوں کی ذیلی درجہ بندی کی بنیاد ریاستوں کو قابل مقدار اور قابل نمائش اعداد و شمار کے ذریعہ درست ثابت کرنا چاہئے۔عدالت نے کہا کہ ریاست اپنی مرضی سے ایسا نہیں کر سکتی۔چیف جسٹس چندرچوڑ اور جسٹس مشرا نے اپنے فیصلے میں تاریخی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ کے مطابق ذیلی زمرہ بنانے سیآئین کیآرٹیکل 14 کے تحت درج مساوات کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔منڈل کمیشن کی سفارش کی بنیاد پر وی پی سنگھ کی حکومت نے 1991 میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں داخلہ میں ریزرویشن دیا تھا۔ اندرا ساہنی نے اس کی قانونی حیثیت کو لے کر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے نومبر 1991 میں دیے گئے اپنے فیصلے میں او بی سی کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کے فیصلے کی حمایت کی تھی، لیکن کہا تھا کہ او بی سی کی شناخت کے لیے ذات پات کی بنیاد ہو سکتی ہے۔ او بی سی ریزرویشن اس فیصلے کے اگلے سال 1992 میں نافذ ہوا۔ لیکن کچھ ریاستوں نے یہ کہتے ہوئے سپریم کورٹ کی بات نہیں سنی کہ ان میں او بی سی میں کوئی کریمی لیئر نہیں ہے۔ اس کے بعد 1999 میں کریمی لیئر کا معاملہ دوبارہ سپریم کورٹ پہنچا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ کو برقرار رکھا۔
1993 میں، حکومت نے او بی سی کے درمیان کریمی لیئر کا تعین کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سالانہآمدنی کی حد مقرر کی تھی۔ ایک لاکھ روپے سے زیادہ سالانہآمدنی والے خاندانوں کو کریمی لیئر قرار دیا گیا۔ اسے 2004 میں 2.5 لاکھ روپے، 2008 میں 4.5 لاکھ روپے، 2013 میں 6 لاکھ روپے اور 2017 میں 8 لاکھ روپے کر دیا گیا۔ یہ حد فی الحال نافذ العمل ہے۔ اس کے ساتھ، یہ ذیلی درجہ بندیآئین کیآرٹیکل 341 (2) کی خلاف ورزی نہیں کرتی ہے،آرٹیکل 15 اور 16 میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ریاست کو کسی بھی ذات کو ذیلی درجہ بندی کرنے سے روکتی ہو۔جسٹس بیآر گاوائی نے کہا کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ زیادہ پسماندہ طبقوں کو ترجیح دے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی-ایس ٹی زمرے میں صرف چند لوگ ہی ریزرویشن سیمستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایس سی-ایس ٹی کے اندر ایسے زمرے ہیں جنہوں نے صدیوں سے ظلم کا سامنا کیا ہے۔انہوں نے سماجی جمہوریت کی ضرورت پر بیآر امبیڈکر کی ایک تقریر کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیاکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب اخلاقیات کا مقابلہ معیشت سے ہوتا ہے، معیشت جیت جاتی ہے۔’’انہوں نے کہا کہ درج فہرست ذات کے کریمی لیئر (متمول طبقے) کے بچوں کا موازنہ کسی درج فہرست ذات کے لوگوں کے بچوں سے کرنا بے ایمانی ہو گی جو گاو?ں میں دستی صفائی کرنے والے ہیں، انہوں نے کہا کہ صرف ایس سی-ایس ٹی کے چند لوگ ریزرویشن کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔جسٹس گاوائی نے کہا کہ ریاست کو چاہئے کہ وہ ایس سی ایس ٹی زمرہ میں کریمی لیئر کی شناخت کے لئے پالیسی بنائے اور انہیں مثبت کارروائی (ریزرویشن) کے دائرہ سے باہر رکھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ پسماندہ طبقات کو ترجیح دے۔جسٹس وکرم ناتھ نے کہا کہ ذیلی درجہ بندی کی کسی بھی مشق کو تجرباتی اعداد و شمار کے ذریعہ سپورٹ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ OBCs پر لاگو کریمی لیئر اصول SC-STs پر بھی لاگو ہوتا ہے۔جسٹس ترویدی نے اس معاملے میں اختلاف کیااورکہا کہ ریاست کی طرف سے دفعہ 341 کے تحت نشاندہی والی درج فہرست ذاتوں کی اصل فہرست میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی ہے۔ ذاتوں کو صرف پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے ذریعے صدارتی فہرست میں شامل یا خارج کیا جا سکتا ہے۔ ذیلی درجہ بندی اصل فہرست کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے مترادف ہوگی۔آرٹیکل 341 کا مقصد SC-ST فہرست میں کردار ادا کرنے والے کسی بھی سیاسی عنصر کو ختم کرنا تھا، جسٹس ترویدی نے کہا کہ واضح اور لفظی تشریح کے اصول کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔