سلاب کی تعداد 7 کردی گئی، 2015 کے مطابق چارجس کی وصولی
حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی میں کئے گئے وعدہ کے مطابق حکومت نے ایل آر ایس اسکیم میں رعایتوں کیلئے قانون میں ترمیم کی ہے۔ حکومت نے غیر قانونی لے آؤٹس کے شہری اور دیہی علاقوں میں ریگولرائیزیشن کی اسکیم پر مشتمل جی او ایم ایس 131 مورخہ 31 اگست جاری کیا تھا۔ اسکیم کے تحت 26 اگست سے قبل غیر مجاز لے آؤٹس میں خریدے گئے پلاٹس جن کی رجسٹری ہوچکی ہے، انہیں باقاعدہ بنانے کی سہولت فراہم کی گئی۔ عوام اور عوامی نمائندوں کی جانب سے ریگولرائزیشن چارجس میں کمی کیلئے حکومت سے نمائندگی کی گئی ۔ ایل آر ایس اسکیم 2015 ء میں موجود چارجس سے کہیں زیادہ نئے قانون میں چارجس مقرر کئے گئے ہیں۔ کورونا کی صورتحال کے پیش نظر عام آدمی کیلئے چارجس کی ادائیگی مشکل ہے۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں کئی ارکان کی توجہ دہانی پر وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے کورونا صورتحال کے پیش نظر عوام کے کمزور معاشی موقف کو دیکھتے ہوئے ریگولرائزیشن چارجس پر نظرثانی کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے ترمیمات کے ساتھ جی او ایم ایس 135 جاری کیا ہے۔ چیف سکریٹری سومیش کماری کی دستخط سے جاری کردہ احکامات میں ایل آر ایس اسکیم 2015 ء کے ریگولرائزیشن چارجس کو برقرار رکھا گیا ہے۔ جی او میں ترمیم کے ذریعہ ریگولرائزیشن کے لئے 4 سلاب کے بجائے 7 سلاب رکھے گئے ہیں جو کہ ایل آر ایس اسکیم 2015 ء میں شامل تھے۔ نئے سلاب کے تحت 26 اگست 2020 ء کو پلاٹ کی سب رجسٹرار کی جانب سے طئے کردہ لاگت کے اعتبار سے چارجس وصول کئے جائیں گے۔ 3000 مربع گز سے کم اراضی کے لئے 20 فیصد چارجس مقرر کئے گئے ہیں۔ 3001 تا 5000 مربع گز کیلئے 30 فیصد ، 5001 تا 10,000 مربع گز کیلئے 40 فیصد، 10,001 تا 20,000 مربع گز کے لئے 50 فیصد ، 20,001 تا 30,000 مربع گز کے لئے 60 فیصد ، 30,001 تا 50,000 مربع گز کے لئے 80 فیصد اور 50,000 سے زائد مربع گز اراضی کیلئے صد فیصد ریگولرائزیشن چارجس وصول کئے جائیں گے ۔ غیر مجاز لے آوٹ میں اگر 10 فیصد کھلی اراضی موجود نہیں ہیں تو رجسٹریشن کی تاریخ کے حساب سے پلاٹ کی مالیت کا 14 فیصد چارج کیا جائے گا۔ زرعی اراضی کو غیر زرعی اراضی میں تبدیل کرنے کیلئے NALA چارجس علحدہ وصول نہیں کئے جائیں گے ۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے اسمبلی میں کہا تھا کہ حکومت غریبوں اور متوسط طبقات کا خیال رکھتے ہوئے نئے قانون میں ترمیم کرے گی۔ ایل آر ایس اسکیم سے استفادہ کیلئے ریاست بھر میں درخواستوں کے ادخال میں اضافہ ہوا ہے ۔ چہارشنبہ کی رات تک ریاست میں 1,59,324 درخواستیں داخل کی گئیں جن میں کارپوریشن کے تحت 38,262 درخواستیں داخل ہوئی ہیں جبکہ گرام پنچایتوں میں 55039 اور میونسپالٹیز میں 66023 درخواستیں داخل کی گئیں۔ درخواستوں کے ساتھ 16 کروڑ 19 لاکھ روپئے بطور اڈوانس جمع کئے گئے ۔ حکومت نے اس سہولت سے استفادہ کی اپیل کی ہے ۔