نئی دہلی، 31 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہول گاندھی نے مودی حکومت پر طلبہ کی تحریک کے بعد انتقامی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے نوجوان حکومت کا سچ جان چکے ہیں، اس لیے انہیں اب ڈرا دھمکا کر خاموش نہیں کیا جا سکتا۔کھرگے نے جمعہ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ 10 دن پہلے حکومت نے نوجوانوں پر لاٹھیوں اور پیلٹ گن کا استعمال کیا اور اب تحریک واپس لینے کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جا رہی ہے نیز انہیں زبردستی حراست میں لیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت تحریک واپس لینے کے دوران کیے گئے وعدے سے پلٹ گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرائے جا رہے ہیں، ان کی ذاتی معلومات عام کی جا رہی ہیں اور حکومت جوابدہی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسے ہتھکنڈے نہیں چلیں گے کیونکہ نوجوان حکومت کا سچ جان چکے ہیں۔ انہوں نے مودی سیامت شاہ کا استعفیٰ لینے کا مطالبہ بھی دہرایا۔راہول نے کہا کہ مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ ‘جین زی’ کو دھمکا کر خاموش نہیں کرا سکتے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے طلبہ پر طاقت کا استعمال کیا گیا اور اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جا رہی ہے نیز ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہٹائے جا رہے ہیں۔راہول نے کہاکہ “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں۔ ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں، اس سلسلے میں محتاط رہیں۔
راہول کا مودی اور امیت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، 31 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے ۔راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہاکہمودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے ۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہآپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔راہول گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے ۔