نقش مٹتے جارہے ہیں بزرگوں کے
راستے بے نور ہوتے جارہے ہیں
موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہوتی ہے اور فی الحال ملک بھر میں اور خاص طور پر ہماری ریاست تلنگانہ میں ایل ۔ نینو کے جو اثرات مرتب ہونے لگے ہیں ان کے نتیجہ میں عجیب و غریب صورتحال پیدا ہو رہی ہے اور اس کے نتیجہ میں عوام سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایل ۔ نینو کی وجہ سے جاریہ سال بارش کم ہوئی ہے ۔ پانی کے ذخائر میں سطح آب کم ہوگئی ہے ۔ زیر زمین پانی کی سطح بھی پانچ میٹر تک گھٹ گئی ہے جو تشویش کی بات ہے ۔ حکومت کی جانب سے بھی اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ آئندہ دنوں میں پانی اور برقی کی سربراہی میں مسائل پیش آسکتے ہیں۔ عوام کو برقی اور پانی کے استعمال میں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ یقینی طور پر اس صورتحال کے عوام پر اثرات مرتب ہونگے ۔ زرعی سرگرمیاں پہلے ہی سے متاثر ہوچکی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں کسانوں کی فصلیں پوری طرح سے تیار نہیں ہوئیں۔ آئندہ دنوں میں بھی فصلوں کی کوئی ضمانت نہیں رہ گئی ہے ۔ حکومت کی جانب سے کسانوں کو دھان کی پیداوار سے گریز کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے اور ڈرائی فصلیں اگانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے ۔ حکومت کی ساری توجہ آئندہ دنوں میں صرف پینے کیلئے پانی فراہم کرنے پر مرکوز ہوگئی ہے ۔ برقی کی سربراہی میں خلل کا آغاز بھی ہوچکا ہے ۔ شہری علاقوں میں یہ صورتحال ابھی اس قدر ابتر نہیں ہوئی ہے تاہم دیہی علاقوں میں اس کے اثرات ابھی سے شدید ہونے لگے ہیں۔ آئندہ چند مہینوں میں یہ صورتحال اور بھی بگڑ سکتی ہے ۔ ایل ۔ نینو کے اثرات کی وجہ سے گرمی کی شدت ہونے لگی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں برقی کی طلب بھی بڑھ گئی ہے ۔ تلنگانہ میں برقی کی طلب ریکارڈ سطح کر پہونچ چکی ہے ۔ ایسے میں آئندہ وقتوں میں جو مشکلات پیش آسکتی ہیں ا ن کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل نہیں رہ گیا ہے ۔ اس صورتحال میںصرف احتیاط ہی ہے جس کے ذریعہ آنے والی مشکلات سے نمٹا جاسکتا ہے اور مزید نقصانات سے ممکنہ حد تک بچا جاسکتا ہے ۔
آج یہ صورتحال ہوگئی ہے کہ ایل ۔ نینو کے اثرات صرف برقی اور پانی تک محدود نہیں رہ گئے ہیں بلکہ یہ ضروریات زندگی کی اشیاء پر بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ مہنگائی اپنی حدوں کو پہونچ رہی ہے ۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہونے لگی ہیں۔ گذشتہ ایک مہینے میں چاول ‘ آٹے اور تیل کے دام کافی حد تک بڑھ گئے ہیں۔ عوام کا گھریلو بجٹ درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے ۔ لوگ دو وقت کی روٹی کیلئے مشقت کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومتوں کی جانب سے مہنگائی پر قابو اپنے کسی طرح کے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ صرف چند اقدامات کرتے ہوئے حکومت بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہی ہے جو ممکن نہیں ہے ۔ حکومت کو اس معاملے میں بالکل سرگرم رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ مہنگائی پر قابو پانے کے موثر انتظامات کئے جانے چاہئیں۔ ذخیرہ اندوزی اور کالابازاری کے خلاف مہم چلائی جانی چاہئے ۔ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے اور عوام کو ضروریات زندگی کی اشیاء واجبی قیمتوں پر دستیاب کروائی جانی چاہئے ۔ مشکل صورتحال میں عوام کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا جاسکتا ۔ حکومت کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے عوام کو راحت اور سہولت پہونچانے کیلئے موثر حکمت عملی تیار کرے ۔ جامع منصوبے بنائے اور مہنگائی پر ممکنہ حد تک قابو پانے کے اقدامات کئے جائیں۔
جو صورتحال فی الحال پائی جاتی ہے اس کے نتیجہ میں یہ اندیشے پیدا ہونے لگے ہیں کہ آئندہ وقت اور بھی مشکل ہوسکتا ہے ۔ مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ عوام بے تحاشہ مشکلات کا شکار ہوسکتے ہیں۔ حکومت کو ساری صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے فوری حرکت میں آنے اور ہر ممکن احتیاطی تدابیرا ختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ پانی اور برقی کی فراہمی بلا رکاوٹ ہونی چاہئے اور ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتیں بھی قابو میں رہنی چاہئے ۔ زیادہ تاخیر اس صورتحال کو اور بھی سنگین بناسکتی ہے ۔
روسی تحدیدات ‘ ٹرمپ کا فیصلہ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس پر عائد کچھ تحدیدات کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس تعلق سے انہوں نے دستخط بھی کردئے ہیں۔ اس متعلقہ قانون پر ایک دن بعد سے عمل آوری ہونی تھی لیکن ایک دن قبل ہی ٹرمپ نے اس کو روک دیا ہے جس کے نتیجہ میں ہندوستان اور چین کو بڑی راحت مل سکتی ہے ۔ اس قانون کے ذریعہ ہندوستان پر 100 فیصد تک شرحیں عائد کرنے کے اندیشے لاحق تھے اور یہی کچھ صورتحال چین کے ساتھ بھی ہونی تھی ۔ ایسا نہیں ہے کہ ٹرمپ نے یہ فیصلہ ہندوستان یا چین کے ساتھ تعلقات کو سمجھتے ہوئے کیا ہو۔ در اصل خود امریکہ کو روس سے پٹرولیم منصوعات کی درآمد کرنی پڑ رہی ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ محض اپنے مفادات کی پرواہ کرتا ہے اور اسے کسی بھی ملک سے دوستی کی کوئی پرواہ نہیں رہ جاتی ۔ ہندوستان کو اس فیصلے کے بعد امریکہ سے تعلقات کے معاملہ میں اپنے موقف کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ تعلقات ضرور برقرار رکھے جانے چاہئیں ‘ انہیں مستحکم کیا جانا چاہئے لیکن تعلقات کی وجہ سے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے کیونکہ امریکہ کسی اور ملک کے نہیں صرف اپنے مفادات کیلئے فیصلے کرتا ہے ۔