کوئمبتوربم دھماکہ کیس: 5 قیدیوں کو 60 دن کی پیرول منظور

,

   

محمد انصاری، محمد علی، مونوپا عرف محمد حسن، محمد عجم اور نواب خان نے صحت کی بنیاد پر درخواستیں دی تھیں

چینائی۔20 اکتوبر( ایجنسیز) چیف منسٹر ٹاملناڈوٰسی جوزف وجئے کی قیادت والی ٹی وی کے حکومت کی جانب سے 1998 کے کوئمبٹور سلسلہ وار بم دھماکوں کے پانچ عمر قید کے مجرموں کو 60 دن کی پیرول منظور کی گئی ہے۔ اس فیصلہ کے بعد ریاست میں سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔حکام کے مطابق کوئمبتور سنٹرل جیل میں محروس محمد انصاری، محمد علی، مونوپا عرف محمد حسن، محمد عجم اور نواب خان نے ذاتی حالات اور صحت سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر پیرول کی درخواستیں داخل کی تھیں۔ ان قیدیوں کی عمریں 46 سے 55 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ان درخواستوں کو رواں سال کے اوائل میں منظوری دی گئی تھی تاہم اسمبلی انتخابات کے دوران رہائی کا عمل روک دیا گیا تھا۔ بعد ازاں نئی درخواستوں پر غور کرتے ہوئے 60 دن کی پیرول منظور کی گئی۔14 فروری 1998 کو کوئمبتور میں انتخابی جلسے سے قبل سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس جلسے میں سینئر بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی کو شرکت کرنا تھی۔ دھماکوں میں 58 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ اڈوانی اس لیے محفوظ رہے کیونکہ وہ دھماکوں کے وقت جلسہ گاہ نہیں پہنچے تھے۔اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے قائم جسٹس پی آر گوکل کرشنن کمیشن نے 1997 میں پولیس فائرنگ میں 18 مسلمانوں کی ہلاکت اور اس کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد کو واقعات کے پس منظر میں اہم قرار دیا تھا۔ اس مقدمے میں سزا یافتہ بعض دیگر قیدیوں کو بھی ماضی میں طبی اور خاندانی وجوہات کی بنا پر عارضی رہائی دی جاچکی ہے۔ جنوری 2023 میں نو مجرموں کو طبی بنیادوں پر عبوری راحت ملی تھی۔ اسی سال مدراس ہائی کورٹ نے ایک دوسرے عمر قید کے مجرم عبدالحکیم کو بھی تین ماہ کی عام رخصت منظور کی تھی۔ دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقررہ قواعد کے تحت پیرول قیدیوں کو دی جانے والی ایک قانونی سہولت ہے اور اسے سزا کی سنگینی کم کرنے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔واضح رہے کہ پیرول عارضی رہائی ہوتی ہے، اس سے سزا ختم نہیں ہوتی اور قیدی کو مقررہ مدت پوری ہونے پر جیل واپس آنا ہوتا ہے۔ریاستی بی جے پی کے چیف ترجمان نارائنن تروپتی نے اس فیصلے پر اعتراض کیاہے۔انہوں نے سپریم کورٹ کے 4 اکتوبر 2023 کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعض عمر قید کے مجرموں کو ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا جبکہ ان کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں زیر التوا تھیں۔