ایم پی میں کانگریس کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف ریاست گیر احتجاج

   

بھوپال، 30 ستمبر (یو این آئی) مدھیہ پردیش میں کانگریس نے چہارشنبہ کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج کیا۔ کانگریس نے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آئی) اور ووٹر لسٹ سے متعلق مسائل پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ مظاہروں کے دوران اندور، گوالیار، اجین، جبل پور، بھنڈ، رتلام اور پنڈھرنا سمیت کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی اور رکاوٹیں ہٹانے کی اطلاع ملی۔ اندور میں کانگریس کارکنوں نے ایک پتلا جلایا اور آگے بڑھنے کیلئے رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس سے ہاتھا پائی ہوئی۔ گوالیار میں مظاہرین نے رکاوٹیں توڑ کر کلکٹریٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر تعینات رہی۔ اجین میں کانگریس کارکنوں نے ایک ریلی میں کلکٹریٹ تک مارچ کیا، رکاوٹوں کو ہٹایا اور مین گیٹ تک پہنچے ۔ وہاں چیف الیکشن کمشنر کا پتلا جلایا گیا۔ جبل پور میں ٹاؤن ہال سے کلکٹریٹ تک ریلی کو پولیس نے کلاک ٹاور پر رکاوٹیں کھڑی کرکے روک دیا۔ جب مظاہرین نے رکاوٹوں پر چڑھنے کی کوشش کی تو پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ بھنڈ میں پولیس نے احتجاج کے دوران واٹر کینن کا استعمال کیا، جس پر کانگریس کارکنوں نے احتجاج کیا۔
رتلام میں کانگریس کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر کا پتلا جلایا، جب کہ پنڈھرنا میں کارکنوں نے پتلے کو زنجیروں سے باندھ کر آگ لگانے سے پہلے اسے تقریباً 500 فٹ تک گھسیٹا۔ دیواس میں کارکنوں نے پتلے کا جنازہ نکالا۔ مورینا میں کانگریس کارکنوں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ اور دیگر مطالبات کو لے کر پرانے کلکٹریٹ کی دیوار پر صدر کے نام ایک میمورنڈم چسپاں کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ کٹنی میں یوتھ کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر کے پتلے جلائے ۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ شیوپور میں کانگریس کارکنوں نے کالی پٹیاں باندھ کر پیدل مارچ کیا اور کلکٹریٹ پر نعرے لگائے ۔ چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ اور ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے انوپ پور میں پیدل مارچ بھی کیا گیا۔ کانگریس کارکنوں نے میہر اور مندسور میں بھی مظاہرہ کیا اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ سے متعلق معاملات میں الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہے ۔ پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ اور ایس آئی آر سے متعلق معاملات پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ 29 ستمبر کو کانگریس ورکنگ کمیٹی نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ اور کئی ریاستوں میں ایس آئی آر کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کے کام کاج اور ایس آئی آر کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کیلئے رضامندی ظاہر کر دی ہے ۔ درخواست میں الیکشن کمیشن کے اجتماعی فیصلہ سازی کے عمل اور ایس آئی آر کی درستگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔