تھرواننتا پورم: لکشدیپ کے سابق ایم پی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) لیڈر پی پی محمد فیضل کو 10 سال کی سزا کے معاملے میں کیرالہ ہائی کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ محمد فیضل کو لکشدیپ کی سیشن عدالت نے اقدام قتل کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔این سی پی لیڈر نے کیرالہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ انہیں سنائی گئی سزا پر روک لگائی جائے۔تاہم رپورٹ کے مطابق کیرالہ ہائی کورٹ نے اقدام قتل کیس میں لکش دیپ میں نچلی عدالت کے حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ہائی کورٹ پیر (23 جنوری) کو ایک بار پھر فیضل کی درخواست پر غور کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق اگر فیصلہ پر روک لگانے پر غور کیا جا رہا ہے تو مرکز نے دلائل داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔خیال رہے کہ لکش دیپ کی نچلی عدالت سے 10 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد این سی پی لیڈر فیضل نے بھی پارلیمنٹ کی رکنیت کھو دی ہے۔ لوک سبھا سکریٹری جنرل نے انہیں پارلیمنٹ سے نااہل قرار دے دیا تھا۔ نتیجے کے طور پرالیکشن کمیشن نے خالی لوک سبھا سیٹ (لکش دیپ حلقہ) کو پر کرنے کیلئے ضمنی انتخاب کا اعلان کیا تھا، جو 27 فروری کو منعقد ہوگا۔