ایودھیا فیصلہ کیخلاف نظرثانی کی عرضی’فائدہ مند‘ نہیں

   

جمیعت علماء ہند، محمود مدنی گروپ کا تاثر ۔ ارشد مدنی گروپ مرافعہ داخل کرنے تیار

نئی دہلی ۔ 21 ۔ نومبر (سیاست ڈاٹ کام) جمیعت علماء ہند کے محمود مدنی گروپ نے آج کہا کہ سپریم کورٹ کے ایودھیا فیصلہ کے خلاف نظرثانی کی عرضی داخل کرنا فائدہ بخش نہیں رہے گا۔ ویسے وہ ان فریقوں کی مخالف نہیں جو ایسا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں اس کا دستوری حق حاصل ہے۔ جمیعت علماء ہند کے ارشد مدنی گروپ نے پہلے ہی اعلان کردیا ہے کہ وہ 9 نومبر کے فیصلہ کے خلاف مرافعہ داخل کرے گا۔ جمیعت علماء ہند (محمود مدنی) کی قومی عاملہ کا اجلاس جمعرات کو یہاں منعقد ہوا جس میں غور و خوض کیا گیا کہ آیا مرافع داخل کرنا چاہئے یا نہیں اور آیا ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کیلئے پانچ ایکڑ اراضی قبول کرلینا چاہئے یا نہیں۔ اس گروپ کے ایک بیان بتایا گیا کہ جمیعت علماء ہند (محمود مدنی) کی عاملہ کا ماننا ہے کہ ایودھیا فیصلہ کے خلاف مرافعہ مسلمانوں کیلئے فائدہ مند نہیں رہے گا۔ تاہم مختلف تنظیمیں نظرثانی کی عرضی داخل کرنے کے اپنے ارادہ کا اظہار کرچکی ہے جوکہ ان کا دستوری حق بھی ہے، اس لئے ہم کوئی مخالفت نہیں کریں گے۔ اس گروپ نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ مسلمانوں کو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحفظ کے تحت آنے والی تمام مساجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دینا چاہئے ۔ چونکہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کی جانب سے وقف بورڈس کے کام کاج میں کوئی مداخلت نہیں، اس لئے متعلقہ اشخاص مسلم کمیونٹی کیلئے بعض نقصان دہ فیصلے بھی کر رہے ہیں۔ اس گروپ نے دعویٰ کیا کہ بابری مسجد کے معاملہ میں اترپردیش سنی وقف بورڈ نے مسلمانوں سے دغا کی ہے۔