واشنگٹن ۔ 30 مئی (یو این آئی) سابق امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے کانگریس کے ارکان کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ایپسٹین فائلز کی اشاعت میں کردار سے متعلق سوالات کے جواب دینے سے انکار کر دیا۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کی نگرانی کمیٹی کے سامنے تقریباً 4 گھنٹے طویل بند کمرہ اجلاس میں بونڈی نے محکمہ انصاف کی جانب سے جیفری ایپسٹین کیس کی فائلز جاری کرنے کے عمل کا دفاع کیا، تاہم صدر ٹرمپ کے ممکنہ کردار یا معلومات سے متعلق سوالات پر خاموش رہیں۔ اپنے ابتدائی بیان میں پام بونڈی نے کہا کہ ایپسٹین فائلز کی اشاعت صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی ہدایت پر شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کیلئے کی گئی۔ ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ڈیومن نے اجلاس کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ پورا عمل ایک ڈھونگ ہے، وہ کسی سوال کا جواب نہیں دے رہیں۔ اسی طرح ورجینیا سے تعلق رکھنے والے رکنِ کانگریس جیمز واک انشو نے دعویٰ کیا ہے کہ جب میں نے پوچھا کہ آیا ٹرمپ کو ایپسٹین کے جرائم کا پہلے سے علم تھا، تو بونڈی نے جواب دیا مجھے ان کے علم کی حد کے بارے میں یقین نہیں۔ ایپسٹین کے مبینہ متاثرین میں شامل کئی خواتین بھی کانگریس کے باہر موجود تھیں، انہوں نے بونڈی اور قانون سازوں سے مطالبہ کیا کہ کیس کی تمام فائلز مکمل طور پر عوام کے سامنے لائی جائیں اور متاثرین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ متاثرہ خاتون ڈینیئل بینسکی نے کہا کہ میں امید کرتی ہوں کہ وہ سیاست سے بالاتر ہو کر ہماری انسانیت کو بھی دیکھیں گی اور متاثرین کیلئے ہمدردی کا مظاہرہ کریں گی۔
پام بونڈی نے پہلے ایپسٹین فائلز کی مکمل اشاعت کے اشارے دیے تھے، تاہم بعد میں اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئی تھیں، جس کے بعد کانگریس نے فائلز کی اشاعت کو قانونی شکل دینے کے لیے قانون منظور کیا۔ اب ڈیموکریٹ ارکان کا الزام ہے کہ بونڈی اور محکمہ انصاف اہم سوالات سے گریز کر رہے ہیں، جبکہ ری پبلکن قیادت کا کہنا ہے کہ فائلز کی اشاعت کے عمل میں قانون کی مکمل پابندی کی گئی ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین جیمز کومر نے کہا ہے کہ اگر پام بونڈی نے کانگریس کے سامنے غلط بیانی کی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے، انٹرویو کا تحریری ریکارڈ بعد میں عوام کے لیے جاری کیا جائے گا۔