ایک سو کروڑ کی وقف اراضی پر راتوں رات کام شروع

,

   

2005 میں تین سال کیلئے کرایہ پر دی گئی اراضی کا کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے لے اوٹ بھی ہوگیا

کوہِ امام ضامن

حیدرآباد۔14۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے بدعنوان ملازمین اوقافی اراضیات کو تباہ کرنے کے مرتکب بن رہے ہیںاور اگر اب بھی ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز نہیں کیا جاتا ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ وقف بورڈ کے ریکارڈس کو چوہے کھا رہے ہیں اور جائیدادیں ملازمین کو تباہ کرنے کیلئے دے دی گئی ہیں۔ روزنامہ سیاست نے 17 اکٹوبر 2022 کو شائع ایک خبر میں اس با ت کا انکشاف کیا تھا کہ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ میں موجود ریکارڈس کو غائب کیا جا رہاہے اور دریافت کرنے پر ریکارڈ دستیاب نہ ہونے اور جس ملازم کے پاس ریکارڈ موجود ہے وہ غیرحاضر ہونے کے علاوہ اسی طرح کے بہانے کرتے ہوئے ریکارڈس کی فراہمی کو نظرانداز کیا جانے لگا ہے۔ کوہ امام ضامن کے تحت موجود انتہائی قیمتی اوقافی اراضی پر قبضہ کی شکایات موصول ہونے کے بعد کی جانے والی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کوہ امام ضامن کے تحت موقوفہ اراضی جو سروے نمبر 196 لوت کنٹہ موضع میں موجود ہے اس اراضی کو آندھراپردیش ریاستی وقف بورڈ نے سال 2005 میں کرایہ پر دیا تھا ۔کوہ امام ضامن کے تحت موقوفہ اراضی جو کرایہ پر دی گئی تھی اس کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے اور سال 2005 میں جاری کئے گئے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے فائل طلب کئے جانے کے باوجود وقف بورڈ میں خدمات انجام دینے والے عملہ اور عہدیدارو ںنے اس فائل کی عدم دستیابی کا بہانہ کرتے ہوئے معاملہ کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی اور رینٹ سیکشن میں اس فائل کی عدم موجودگی کے متعلق مطلع کرتے ہوئے اپنا دامن جھاڑ لیا۔ماہ اکٹوبر کے دوران سروے نمبر196 میں 10 ایکڑ اراضی کرایہ پر دیئے جانے کے متعلق فائل کی تلاش کے آغاز اور اس میں ناکامی کے بعد روزنامہ سیاست نے 17 اکٹوبر کو ایک خبر شائع کرتے ہوئے وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات سے فائیلس غائب ہونے کے متعلق انکشاف کیا تھا لیکن اندرون 2 ماہ اس اراضی پر قبضہ کی کوششوں کے آغاز سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کوہ امام ضامن کے تحت موجود موقوفہ اراضی پر قبضہ کے معاملہ میں وقف بورڈ کا عملہ بھی ملوث ہے کیونکہ مذکورہ فائیل کے متعلق تفصیلات طلب کئے جانے اور اس کے انکشاف کے ساتھ ہی اسی اراضی پر قبضہ کی عملی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے گذشتہ دنوں کوہ امام ضامن کے تحت موقوفہ اراضی پر قبضہ کی اطلاع پر دورہ کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کیں جس پر یہ انکشاف ہوا ہیکہ قابضین سروے نمبر 196 میں موجود اراضی پرجسے آندھراپردیش وقف بورڈ نے کرایہ پر دیا تھا اس کی فروخت کیلئے 2008 میں لے آؤٹ منظور کروالیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق 7نومبر2008 کو کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے اس اراضی پر لے آؤٹ کی قرارداد منظور کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اور کہا جار ہاے کہ 22جنوری 2009 کو اس سلسلہ میں کنٹونمنٹ بورڈ نے ایک مکتوب نمبر Lr.No.304/NCA/Sy.No.196 لوتکنٹہ موضع کے لئے جاری کردیا گیا ہے۔ وقف بورڈ کے شعبہ کرایہ کے علاوہ فائیلس کے ریکارڈس کو محفوظ رکھنے کے ذمہ دار عہدیدار و ملازمین کی جانب سے آندھراپردیش ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے کوہ امام ضامن کے تحت موجود سروے نمبر 196 میں اراضی کو کرایہ پر دینے کے جو احکام جاری کئے گئے تھے اس کی مکمل تفصیلات اور نقل موجود ہے لیکن وقف بورڈ کے دفتر میں یہ فائیل موجود نہیں ہے۔وقف بورڈ نے کرایہ پر دینے کے جو احکام دیئے تھے اس فائیل کا نمبر F.No.R3/14/Rent/RR/2002 ہے جو کہ یکم جنوری 2005 کو جاری کئے گئے تھے۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دینے والے عملہ کے مشتبہ کردار اور ان کی بدعنوانیوں کے سلسلہ میں متعدد شکایات کے باوجود ان کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی کا نہ کیا جانا ان کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ماہ اکٹوبر کے دوران اگر اس فائیل کی تحقیق اور اس فائیل کی گمشدگی کے سلسلہ میں کاروائی کی جاتی تو شائد اس اراضی پر قبضہ کی یہ کوشش نہیں ہوتی بلکہ اس اراضی کو جو کرایہ پر وقف بورڈ نے دیتے ہوئے کرایہ حاصل کیا ہے اس کے تحفظ یقینی بناتے ہوئے اس اراضی پر وقف بورڈ قبضہ حاصل کرسکتا تھا لیکن ملازمین اور عہدیداروں کی ملی بھگت اور سازش کے نتیجہ میں جس فائیل کی بورڈ میں تلاش جاری تھی اسی اراضی پر قبضہ کی شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔
م