ای ڈی کا راشن گھوٹالہ کے سراغ ملنے کا دعویٰ

   

کلکتہ : راشن کی تقسیم میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اربوں روپے کے راشن گھوٹالے کا سراغ مل گیا ہے ۔تفتیش کے دوران جانچ افسران کو حیران کن شواہد ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ تحقیقاتی ایجنسی کے ایک ذریعہ نے دعویٰ کیا کہ کرپشن کی رقم نقد کے طور پر لین دین ہوئی ہے اوراس لین دین کامحفوظ راستہ ریاستی حکومت کا محکمہ خوراک تھا۔ دوسرے لفظوں میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ محکمہ خوراک کے اندر بھی رقم کی لین دین ہوئی ہے ۔ افسران نے بتایا کہ راشن بدعنوانی کی تحقیقات میں کئی لوگوں سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد یہ معلومات حاصل کی گئی ہے ۔ ریاستی وزیر جیوتی پریہ ملک گزشتہ پانچ دنوں سے ای ڈی کی حراست میں ہیں۔ سابق وزیر خوراک کے ساتھ شامل کئی تنظیمیں اب ای ڈی کے رڈار پر ہیں۔جانچ آفیسروں کو تین کمپنیوں میں شیئر پریمیم کی شکل میں تقریباً 12 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے آثار ملے ہیں ۔ اس کے علاوہ، انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ تقریباً آٹھ کروڑ روپے ان کی بیٹی اور بیوی سے منسلک تین کمپنیوں کے بینک کھاتوں میں جمع کرائے گئے تھے ۔ تحقیقاتی ایجنسی ای ڈی کے مطابق تقریباً 90 فیصد رقم نقدی میں جمع کرائے گئے ہیں۔ اسی طرح ای ڈی کو راشن گھوٹالہ میں گرفتاربقی الرحمان کی اہلیہ اور بہنوئی کے بینک کھاتوں میں کئی کروڑ روپے کاڈرانزیکشنز کے سراغ ملے ہیں۔
ای ڈی کی طرف سے ضبط کی گئی ڈائریوں اور نوٹ بکوں میں رقم کے کھاتے بھی ملے ہیں۔ اس لیے افسران کا خیال ہے کہ ان نقد رقم کے نمبروں کو ملانا ضروری ہے جن سے ، کس طریقے سے اور آخر کس تک پہنچی۔ ای ڈی ذرائع کے مطابق، انہیں نقد لین دین کی جانچ کے دوران فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں رقم کی تبدیلی کا علم ہوا ہے ۔ ای ڈی نے جیوتری پریہ ملک کے قریبی دوست بقی الرحمن کو 14 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔ بقی الرحمن کے علاوہ افسران نے کئی اور افسروں سے پوچھ تاچھ کی ہے ۔26اکتوبر کو ای ڈی نے بقی الرحمن اور جیوتری پریہ ملک کے گھر کی تلاشی لی ۔کئی گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کرنے کے بعد ای ڈی نے جیوتری پریہ ملک کو گرفتار کرلیا ۔ریاستی وزیر کی گرفتاری کے بعد ای ڈی نے ان کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ ساتھ موجودہ اور سابق معاونین کو بھی طلب کیا اور ان کے بیانات قلمبند کئے ۔ محکمہ خوراک سے وابستہ لوگوں کے بیانات کے ذریعہ انٹرا ڈپارٹمنٹل لین دین کا معاملہ ای ڈی کی توجہ میں آیا ہے ۔ افسران کو معلوم ہوا ہے کہ تھیلوں میں رقم ماہ کے مختلف اوقات میں محکمہ خوراک میں پہنچتی تھی۔ جانچ افسران اس معاملے میںملک سے مزید معلومات جمع کررہے ہیں ۔ جیوتری پریہ ملک 2011 سے 2021 تک وزیر خوراک تھے ۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ وزیر خوراک کے دور میں ای ڈی کے ذریعہ پکڑے گئے تاجربقی الرحمن کے بدعنوانی کا ایک بڑی رقم جیوتری پریہ ملک کے پاس پہنچتا تھا۔بقی الرحمن کے علاوہ کئی اور تاجر بھی رشوت کی رقم ریاستی وزیر تک پہنچاتے تھے ۔ تفتیش کے دوران بقی الرحمن اور ایک شخص کی واٹس ایپ گفتگو مرکزی جانچ ایجنسی کے ہاتھ لگی ہے ۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ وزیر کو پیسے دینے کی اطلاع وہاں سے سامنے آئی۔ ای ڈی نے دعوی کیا کہ 2020 میں ریاستی وزیر کو 68 لاکھ روپے ادا کیے گئے تھے ۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ ضبط کیے گئے فون کے واٹس ایپ پیغام سے ریاستی وزیر کو مزید 12 لاکھ ادا کیے جانے کی معلومات کا انکشاف ہوا ہے ۔ اس سے قبل ای ڈی کو ٹیچر بھرتی بدعنوانی کی جانچ کے دوران بھی ایسی معلومات ملی تھیں۔ تحقیقاتی ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ بورڈ آف پرائمری ایجوکیشن کے دفتر کے احاطے میں بھرتی گھوٹالے میں بھی رقم کا لین دین ہوا ہے ۔