بائیڈن کو بڑے عطیہ کنندگان کی حمایت سے محروم ہونے کا خطرہ

   

نیویارک: امریکہ میں صدر بائیڈن پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ آئندہ صدارتی انتخابات کی دوڑ سے دست بردار ہو جائیں مگر لگتا ایسا ہے کہ بائیڈن ان مطالبات پر کان دھرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں یوم آزادی کے حوالے سے منعقد تقریب میں بائیڈن کا کہنا تھا کہ “وہ کہیں نہیں جائیں گے”۔بائیڈن کو بعض دولت مند ڈیموکریٹ عطیہ کنندگان کی جانب سے بھی دستبرداری کے مطالبے کا سامنا ہے۔ کم از کم دو عطیہ کنندگان نے اعلان کر دیا ہے کہ اگر بائیڈن نامزد امیدوار رہے تو وہ عطیات دینا روک دیں گے۔ان میں ابیجل ڈزنی کا کہنا ہے کہ صدارتی دوڑ میں بائیڈن کی موجودگی کی صورت میں وہ ڈیموکریٹک پارٹی کو عطیات ہر گز نہیں دیں گی۔ جمعرات کے روز CNBC ٹی وی نیٹ ورک کو دیے گئے بیان میں ڈزنی نے واضح کیا کہ وہ بائیڈن کا احترام کرتی ہیں۔ انہوں نے شان دار طریقے سے ملک ک خدمت کی تاہم “اگر بائیڈن سبک دوش نہ ہوئے تو ڈیموکریٹس کو نقصان ہو گا، مجھے یقین ہے کہ نتائج واقعتا بھیانک ہوں گے”۔ادھر موریا فنڈ کے سربراہ جدعون شٹائن نے صدر بائیڈن کو سراہا تاہم ساتھ ہی باور کرایا کہ وہ غیر منافع بخش تنظیموں اور متعلقہ سیاسی گروپوں کیلئے مجوزہ 35 لاکھ ڈالر کے عطیات روک دیں گے۔ انہوں نے CNBC ٹی وی نیٹ ورک سے گفتگو میں بتایا کہ “تمام مرکزی عطیہ کنندگان جن سے میں نے بات کی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو ہرانے کیلئے امریکہ کو ایک نئے امیدوار کی ضرورت ہے”۔واضح رہے کہ 27 جون کو صدارتی مباحثے میں 81 سالہ جو بائیڈن کی خراب کارکردگی کے بعد کانگریس میں ڈیموکریٹس کے اندر صدر کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔امریکہ میں “مارننگ کنسلٹ” نامی ادارے کی جانب سے کرائے جانے والے ایک سروے میں 60% ووٹروں کا کہنا ہے کہ یقینا صدر (بائیڈن) کی جگہ کوئی اور ڈیموکریٹ امیدوار سامنے آنا چاہیے۔صدر جو بائیڈن اپنی صلاحیتوں کے حوالے سے اطمینان دلانے کیلئے جمعے کے روز وسکونسن کی اہم ریاست میں انتخابی جلسہ منعقد کریں گے۔ اس کے بعد وہ ABC ٹی وی چینل کو انٹرویو بھی دیں گے۔وہ آئندہ ہفتے ایک پریس کانفرنس بھی کریں گے۔