بائیڈن کے 2024ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر ہنوز سوالیہ نشان

,

   

امریکی شہریوں کی اکثریت 80 سال کی عمر کے صدر کو ذمہ داری سنبھالنے کے قابل نہیں سمجھتی، نئے سروے میں انکشاف
واشنگٹن : ڈیموکریٹس کی اکثریت کا خیال ہے کہ صدر جو بائیڈن کیلئے صدارت کی ایک مدت کافی ہے۔ تاہم صدر کا اصرار ہے کہ وہ 2024 میں دوبارہ انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایسوسی ایٹیڈ پریس اور این او آر سی سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ایک نئے سروے کے مطابق صرف 37 فیصد ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ وہ صدرک بائیڈن کے دوسری مدت کیلئے انتخاب میں حصہ لینے کے خواہاں ہیں۔یہ شرح سال کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے والے ہفتوں میں 52 فیصد تھی۔ اگرچہ بائیڈن قانون سازی کی اپنی فتوحات اور حکومت کرنے کی صلاحیت کو سراہتے رہتے ہیں تاہم حالیہ جائزے سے پتہ چلتا ہیکہ بالغ امریکیوں کی نسبتاً کم تعداد اس سے متفق ہے۔ جائزے کے جواب دہندگان کے ساتھ فالو اپ انٹرویوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ متعدد لوگوں کے خیال میں 80 سال کی عمر میں اتنی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا آسان نہیں ہے اور دنیا کے سب سے زیادہ دباؤ والا یہ منصب کسی کم عمر شخص کیلئے بہتر ہو گا۔شمالی کیرولینا کے شہر ریلے میں تعلیم کے شعبے میں کام کرنے والی 37سالہ ڈیموکریٹ سارہ اوورمین کا کہنا ہے۔’’میں پوری دیانتداری سے یہ سمجھتی ہوں کہ وہ بہت معمر ہو جائیں گے۔ہم صدارتی منصب کیلئے کم عمر امیدوار کا انتخاب کر سکتے ہیں۔‘‘صدر بائیڈن اس منگل کو اپنا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کر رہے ہیں اور ان کے پاس موقع ہے کہ وہ حکومت کرنے کی اپنی اہلیت کے بارے میں بنیادی شکوک کو دور کریں۔ بائیڈن نے اس سے قبل اپنے فرائض کی بجاآوری کے بارے میں ہمیشہ کہا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بخوبی پوری کر رہے ہیں۔ اس عمر میں دفتر کی ذمہ داریاں نبھا نے کے سوال پر صدر نے کہا ہے کہ ’’کام کرتے ہوئے وہ نئے چیلنج قبول کر رہے ہیں۔‘‘ڈیموکریٹک امیدواروں نے 2022 کے وسط مدتی انتخابات میں توقع سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جو بائیڈن کے اس دعوے کا ثبوت ہے کہ وہ جمہوریت کا دفاع کر رہے ہیں اور متوسط طبقے کا معیار بلند کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے سینیٹ پر اپنے کنٹرول کو ایک نشست کی برتری سے مضبوط کیا ہے اور ایوان میں بھی اپنی اکثریت سے کم شرح سے محروم ہوئے ہیں۔مجموعی طور پر41 فیصد افراد بائیڈن کی بطور صدر فرائض سے عہدہ برآ ہونے کو منظور کرتے ہیں جو گزشتہ سال کیاختتام پر سامنے آنے والی درجہ بندی سے مختلف نہیں۔ ڈیموکریٹس کی اکثریت اب بھی بائیڈن کی صدارتی کارکردگی کو قبول کرتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ ان کی دوبارہ انتخاب کی مہم کیلئے تیار نہیں ہیں۔مجموعی طور پر صرف 22فیصد امریکی بالغوں کا کہنا ہے کہ انہیں دوبارہ انتخاب میں حصہ لینا چاہیئے جب کہ پچھلے سال کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے 29فیصد نے ایسا کہا تھا۔بائیڈن کے دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے کیلئے ڈیموکریٹس کی حمایت میں کمی زیادہ تر نوجوانوں میں دکھائی دیتی ہے۔ 45 سال اور اس سے زیادہ عمر کے ڈیموکریٹس میں سے 49فیصد کا کہنا ہے کہ بائیڈن کو دوبارہ انتخاب میں حصہ لینا چاہئے جبکہ اکتوبر میں تقریباً 58فیصد نے ایسا کہا تھا۔لیکن 45 سال سے کم محض 23 فیصد اب کہتے ہیں کہ انہیں دوبارہ انتخاب میں حصہ لینا چاہئے، جب کہ وسط مدتی انتخاب سے پہلے 45 فیصد اس کی حمایت کرتے تھے۔لنڈا لاک ووڈ کنساس سٹی سے ریٹائر ہونے والی ایک ڈیموکریٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بائیڈن کی عمر سے زیادہ پریشان نہیں ہیں۔لاک ووڈ کہتی ہیں کہ’’میری رائے میں وہ کافی اچھے نظر آتے ہیں اور یہ خیالات ایک 76 سالہ خاتون کے ہیں۔
آپ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے قدرے زیادہ محتاط ہو سکتے ہیں لیکن اگر آپ کا دماغ اب بھی کام کر رہا ہے اور یہی اصل بات ہے۔‘‘امریکی تاریخ کے سب سے معمر صدر بائیڈن کو اپنی عمر کے بارے میں اکثر سوالات کا سامنا رہتاہے کیونکہ اگر وہ پورے آٹھ سال صدر کے طور پر کام کرتے ہیں تو ان کی عمر 86 برس ہو جائیگی۔ وہ اکثر زیادہ دیر تک کام کرتے ہیں۔ گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں اور سفر کے دوران ملنے والے اجنبیوں کے نام یاد رکھتے ہیں جو ان کے ساتھ اپنی زندگی کے تجربات شیئر کرنا چاہتے ہیں۔وہ نصف صدی سے قومی سیاسی شخصیت رہے ہیں۔ وہ پہلی بار 1972 میں ڈیلاویئر سے سینیٹر کے طور پر منتخب ہوئے تھے، اور ایسے لمحات میں جب وہ اسٹیج پر کھوئے ہوئے دکھائی دیتے ہیں یا تقریروں کے دوران اٹکتے ہیں تو ایسی چیزیں ان کی پالیسیوں سے زیادہ توجہ کا محور بن جاتی ہیں۔امریکی ٹیلی ویڑن CNN پر ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری پیٹ بٹگیگ نے اتوار کے روز تسلیم کیا کہ ’’مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے دلائل طاقتور ہو سکتے ہیں۔‘‘ انہوں نے 2020 میں ڈیموکریٹک صدارتی نامزدگی کی کوشش کی تھی۔