30 سال کا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی انصاف سے محروم
ممبئی: جنوبی ممبئی میں مجگاوں علاقہ میں ڈاکیارڈ روڈاسٹیشن اور مجگاوں مسجد کے قریب واقع پٹھان چال کی دوسری منزل پر تقریباً دوسومربع فٹ کے گھر میں رہائش پذیر عمررسیدہ طاہر بھائی واگلے اور ان کی اہلیہ اختری واگلے اپنے لخت جگر 16 سالہ شاہنواز کو بھلا نہیں پائے ہیں، بلکہ مجگاوں کے پٹھان چال کمپاونڈ کا ہر ایک مکین ان دردناک منظر کو یاد کرکے آبدیدہ ہوجاتا ہے ،جب شاہنواز کوپولیس بے رحمی سے گولی ماردی تھی۔اور سری کرشنا کمیشن رپورٹ میں جسٹس سری کرشنا نے اپنے ریمارکس میں ’’ اسے کولڈ بلڈیڈ مرڈر‘‘ قرار دیا ہے اور کہاکہ 11 ویں جماعت کے سائنس کے طالب علم کو پولیس نے دن دھاڑے بے دردی سے قتل کردیا۔حکومت کو اس ضمن میں دروغ گوئی اور جانبداری کرنے والے پولیس آفیسرز اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنا چاہئیے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تین عشرے کے بعد بھی انہیں انصاف نہیں ملا۔ طاہر واگلے نے بڑے جذباتی انداز میں کہاکہ بوڑھی والدہ اختری اب تک کھوئی کھوئی رہتی ہے ، آج ایک عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی میں کوئی بھرپائی نہیں ہوئی ہے اور ہمارا کتنا بڑا نقصان ہوا ہے ،لیکن قصورواروں کو کوئی سزا نہیں ہوئی ہے ،جوکہ ایک افسوسناک امر ہے ۔شاہنواز ایچ ایس سی کرنے کے بعد بحری جہاز پر ملازمت کرتا اور اس سلسلہ میں کئی مرحلہ سے گزر چکا تھا،لیکن وہ نا انصافی کا شکار بن گیا۔ طاہر واگلے حال میں سپریم کورٹ کے قصورواروں کے خلاف کارروائی اور لاپتہ افراد کی تلاش کے فیصلے سے لاعلم ہیں اوروہ ناامید ہوچکے ہیں ،کیوں کہ ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے ،پھر بھی ایک آس ہے کہ قصوروار پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئیے تو انہیں انصاف ملے گا۔ ویسے بابری مسجد کی شہادت کے بعد شہر میں پھوٹ پڑے دسمبر1992 اور جنوری 1993 کے گروہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کرنے والے سری کرشنا کے سربراہ جسٹس بی این سری کرشنا نے خیال ظاہر کیا کہ 10 جنوری 1993 کو پولیس نے دن دہاڑے ایک نوجوان کو قتل کر دیا تھا جو ایک سنگین ترین معاملہ ہے ۔کمیشن۔کے مطابق پولیس پٹھان چال میں آئی تھی اور مسلمانوں کے مکانات میں زبر دستی داخل ہونے کے دوران ایک مکین طاہر واگلے کے مکان میں داخل ہو گئی اوران کی بیوی اور بیٹی یاسمین کو رائفل سے دھمکایا اور ان کے 16 سالہ بیٹے شاہ نواز کو سڑک پر کھیلتے وقت زبردستی لے گئی اوراس کو زدو کوب کرنے کے بعد ایک کا نسٹبل نے پیچھے سے اسے گولی مار دی تھی اور لاش کو پولیس کی وین میں ڈال کر لے گئے ۔ یاسمین اور اس کی ماں سڑک کے اس مقام پر آئے تو وہاں خون پڑا تھا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یاسمین طاہرحسن واگلے ایک ذہین تعلیم یافتہ لڑکی ہے جس نے کمیشن کے سامنے گواہی دی ہے ۔ اس کی گواہی ایک دکھ بھری داستان ہے ۔ جس سے کمیشن انکار نہیں کر سکتا ہے ۔ یاسمین کی گواہی ریکار ڈ کرنے کے بعد کمیشن نے پولیس کمشنر کو حکم دیاکہ اس المناک واقعہ کی تحقیقات کروائی جائے ۔ پولیس کمشنر نے ڈپٹی پولیس کمشنر زون چہارم سریندر کمار کو تحقیقات کی ہدایت دی۔ سریندر کمار نے جانچ کے بعد کمیشن کے سامنے ایک رپورٹ پیش کی ۔ کمیشن کے سامنے جو شہادتیں پیش کی گئی ہیں، ان سے کمیشن اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ پولیس نے شاہنواز کو دن دہاڑے قتل کر دیا تھا جب کہ ڈی سی پی نے اس معاملے کی تحقیقات میں پولیس کو صاف ستھرا پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ یاسمین اور دوسرے گواہوں نے اس معاملے میں پولیس میں شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ کمیشن نے انکوائری کے ریکارڈ یا اس کے طریقہ کار کا مکمل جائزہ لیا ہے ۔