بات جو بگڑی ہوئی تھی بنائی کس نے…

   

محمد مبشرالدین خرم
ایران۔اسرائیل و امریکہ کے درمیان جاری جنگی حالات کو اب محض دنیا کے چند ممالک کے درمیان جاری کشیدگی یا ان کے مفادات کی جنگ کی حد تک محمول نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس جنگ کو اب مذہبی ‘ اخلاقی اور انسانی حقوق کے نظریہ سے بھی دیکھنا لازمی ہوچکا ہے کیونکہ جنگ میں شامل فریقین نے بھی کھل کر اب اس جنگ کو مذہبی جنگوں سے جوڑنے کااعلان کرنا شروع کردیا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں جہاں اب تک مسلمانوں کے جنگ کا حصہ ہونے پر ’’جہاد‘‘ کو بدنام کرنے کے لئے انہیں دہشت گرد تنظیم اور بدامنی پھیلانے والوںمیں شمار کرتے ہوئے ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے مغربی دنیا بالواسطہ یہ تاثر دیا کرتی تھی کہ ’اسلام‘ دہشت گردی اور شدت پسندی کی تعلیم دیتا ہے اور اسی لئے یہ مسلم تنظیمیں شدت پسند نظریات کا شکارہوتے ہوئے انسانی حقوق کے علاوہ مذہبی ذمہ داری کے نام پر شورش پیدا کرتی ہیں حالانکہ نے مغربی ممالک نے اپنے مفادات اوراپنے دشمن کو ٹھکانے لگانے کے لئے ان تنظیموں اور نظریات کا بھرپور استعمال کیا ہے اور دنیا میں شائد ’تحریک طالبان‘ افغانستان ایسی واحد تنظیم ہے جس نے طویل جدوجہد کے بعد نہ صرف اقتدار حاصل کیا بلکہ دنیا کے ان امن پسند ممالک سے بھی سفارتی تعلقات استوار کرنے میں کامیاب رہے جو ان کے خاتمہ کو اپنا مقصد بنائے جنگ میں مصروف تھے۔ اس کے علاوہ مصر میں اخوان المسلمون نے طویل جدوجہد کے بعد اقتدار حاصل کرنے میں کامیابی تو حاصل کی تھی لیکن مغربی سازشی عناصر نے شہید محمد مرسی ؒ کو اقتدار سے بے دخل کرتے ہوئے مصر میں آئے جمہوری انقلاب کو پامال کردیا۔مغربی دنیا جو کہ مسلم ممالک کو خود مختار ہونے کے بجائے اپنے محتاج رکھنے کی خواہشمند ہیں وہ اخوان اور طالبان کی جدوجہد کو مذہبی شدت پسندی پر محمول کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا کرتی تھیں اب وہ خود ایران سے جاری معرکہ کو’مذہبی ‘ جنگ قرار دینے لگے ہیں جو کہ دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے مذہبی شدت پسندی اور جنونیت ظاہر کرنے کے مترادف ہے علاوہ ازیں اسرائیل و امریکہ نے جو سرکاری طور پر دہشت گردی مچائی ہوئی ہے وہ اب آشکار ہونے لگی ہے اب دنیا کے ان متمدن اور تہذیب یافتہ ممالک کو چاہئے کہ وہ ان کی سرکاری دہشت گردی پر خاموش تماشائی نہ رہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ شروع کرنے کے بعد اندرون 15 یوم اس بات کا اعتراف کرنا شروع کردیا ہے بلکہ اپنے ملک کے عوام میں پائی جانے والی برہمی پر قابو پانے کے لئے یہ کہنے لگے ہیں کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ’مذہبی ‘ نوعیت کی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے اس جنگ کو بالواسطہ طور پر ’’ملحمۃ الکبریٰ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسلام کے خلاف جنگ قرار دے دیا ہے اور خود امریکی صدر نے وائٹ ہاؤز میں عیسائی پادریوں کے ساتھ دعائیہ اجتماع کے انعقاد کے ذریعہ اسے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگ قرار دینے کے علاوہ 17 مئی 2026 کو ’امریکہ کو دوبارہ ایک خدا(عیسائیت) کے لئے وقف کرنے کا اہتمام کرنے اعلان کیا ہوا ہے جو کہ 250ویں تقریب ہوگی۔اسرائیل اور امریکہ جو جنگیں مسلمانوں پر مسلط کرتے رہے ہیں خواہ وہ افغانستان کی جنگ ہویا سوڈان میں پیدا کی گئی شورش‘ عراق ‘ کویت‘ شام یا لبنان کے جنگی حالات ہوں یا لیبیاء‘ یمن‘ صومالیہ میں پیدا کئے جانے والے حالات ہوں دنیا انہیں جغرافیائی و سیاسی طور پر دیکھے کے لئے امریکہ نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ اب تک بھی جو حملے کرتا آیا ہے وہ ’مذہبی ‘ نوعیت کے ہی حملے تھے۔ ایران ۔امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگی کشیدگی کو اسرائیل و امریکہ نے جب ’مذہبی ‘ جنگ کے طور پر تسلیم کرنا شروع کردیا ہے تو ایسے میں مسلم ممالک بالخصوص خلیجی ممالک کو اب کھل کر اپنے موقف کوواضح کرنا چاہئے کہ وہ کس گروہ کے ساتھ کھڑے ہیں ! خلیجی ممالک جو کہ اسرائیل دوست اور امریکہ نوازپالیسی اختیار کرتے ہوئے ایران سے الجھ رہے ہیں اور دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ کر رہا ہے دراصل وہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی سازش ہے ۔ ایران جو کہ اس جنگ کے آغاز کا ذمہ دار نہیں ہے اب اسے دنیا بھر میں پھیل رہی بدامنی کے لئے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دیگر ممالک کے ذریعہ بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اسرائیل اور امریکہ جو ایران کو اندرون 72 گھنٹے صفحۂ ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھ رہے تھے وہ 15 دن گذرنے کے باوجود اپنے طور پر خفت مٹانے سے قاصر ہیں اور دیگر ممالک کو بھی جنگ میں جھونکنے کی کوشش میں مصروف ہیںاور یہ الزامات بھی سامنے آرہے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے ساتھ اس جنگ کے آغاز سے قبل جو ’ایران‘ کے متعلق اندازہ لگایا تھاوہ بری طرح سے غلط ثابت ہونے کا دعویٰ کیا جا رہاہیلیکن اس کے منفی اثرات دنیا بھر کے تمام ممالک پر ہونے لگے ہیں بلکہ اس جنگ نے دنیا کے ان ممالک کو بھی اپنی آگ کی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے جو کسی بھی فریق کی حمایت یا تائید نہیں کر رہے ہیں بلکہ غیر جانبدارانہ موقف اختیا رکرتے ہوئے روئے زمین پر قیام امن کی بات کر رہے ہیں۔ اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ امریکہ نے ایران کی جنگی صلاحیتوں کو انداز ہ غلط لگایا ہے تو وہ اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ یہ جنگ مذہبی ہے۔ جنگی ماہرین اگر یہ کہہ رہے ہیں کہ جس امریکہ کو’طالبان‘ جیسے غیر منظم گروہ جن کے پاس کوئی حکومت نہیں ہے وہ 20 سال تک جنگی حالات میں رکھ سکتے ہیں تو ایسی صورت میں اسلامی جمہوریہ ایران جو کہ اسلامی انقلاب کے ذریعہ قائم ہونے والی حکومت ہے اور اس حکومت نے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ جنگ کے علاوہ کئی جنگوں میں نظریاتی تائید فراہم کی ہے تواس مملکت کے ساتھ امریکہ جنگ کے آغاز سے قبل ایسا کوئی غلط انداز ہ نہیں لگا سکتا کہ چند گھنٹوں یا ایام میں اس جنگ کا اختتام ہوجائے گا۔افغانستان میں جہاں ملا عمر ‘ اسامہ بن لادن ‘ فلسطین میں شیخ احمد یاسین‘ اسمعیل ھنیہ ‘ یحیٰ سنور اور ابو عبیدہ کی شہادت کے لئے امریکہ اور اسرائیل جیسی طاقتوں کو کئی برسوں تک جدوجہد کرنی پڑی اور ان تجربات کے باوجود اگر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ جنگ میں پیدا ہونے والی طوالت غلط اندازے کا نتیجہ ہے تو بلکلیہ طور پر غلط ہے کیونکہ امریکہ اور اسرائیل جو کہ اتنے طویل جنگوں کا تجربہ رکھتے ہیں وہ اس طرح کی غلطی کے مرتکب نہیں ہوسکتے بلکہ دونوں ہی ممالک کے سربراہان کے پاس اس جنگ کی حکمت عملی اور طویل مدتی جنگ کے متعلق منصوبہ تیارہے ۔ دونوں ہی ممالک مذہبی اعتبار سے اس معرکہ کو آگے لے جا رہے ہیں۔ اس جنگ کے آغاز کی تاریخ اور حملوں میں شدت کے علاوہ اگر ’تالمود‘ میں درج احکامات کا جائزہ لیں تو اسرائیل و امریکہ نے 28 فروری کو اس جنگ کا وقت بہت پہلے ہی طئے کرلیا تھا اور 3مارچ کو’خونی چاند گہن‘ سے قبل جنگ میں شدت کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کے ذریعہ ہی مناب میں 168 معصوم لڑکیوں کے اسکول کو نشانہ بنایا گیا تاکہ ان شیطانی قوتوں کو خوش کرسکیں جو یہودیوں کے مسیحا ’دجال‘ کی آمد کی راہ ہموار کرسکے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان اگر نسلی و نسبی و جینیاتی تعلق کے متعلق تحقیق کی جائے تو ایرانی اور اسرائیلی کے درمیان فرق محض’ہدایت ‘ کا ہے لیکن جینیاتی اعتبار سے دونوں میں ایک ہی خون دوڑ رہا ہے اسی لئے یہودیوں کی ہر اس چال سے ایرانی حکمراں نہ صرف واقف ہیں بلکہ ان کے خلاف کمربستہ ہوتے ہوئے مقابلہ کے متحمل ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد آیت اللہ مجتبیٰ حسین خامنہ ای کے انتخاب کے ساتھ ہی امریکہ و اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ان ممالک نے جو ایران کے خلاف ہیں یہ پیغام عام کرنے کی کوشش کی کہ ’باپ کے بعدبیٹے‘ کو اقتدار پر لایا گیا ہے لیکن آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے دنیا سے کئے گئے پہلے خطاب کے ساتھ ہی’سفارتی زبان ‘ سمجھنے والوں کے لئے جو پیغام دیا ہے اس نے ان ممالک کو بھی دہلا دیا ہے جو خاموشی میں اپنی بقاء تصور کر رہے تھے ۔ 12منٹ کے دنیا سے خطاب میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکہ و اسرائیل کے خلاف جاری اس جنگ کے مذہبی ہونے کو اس قدر یقین کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ابتدائی 6منٹ نے دنیا کی طاقتورترین مملکتوں کو بھی اپنے مستقبل کے متعلق غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ہندستان جو کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای ‘ ایران پر حملہ ‘ معصوم اسکولی طالبات کی اموات پر بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے تھا وہ بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے اس خطاب کے ساتھ ہی ایران سے رابطہ استوار کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگیاہے تاکہ برسہا برس پرانے بلکہ ’’نہرو‘‘ کے دور سے بھی قدیم تعلقات کی دہائی دیتے ہوئے ’’وشوگرو‘‘ ہندستان کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بناسکیں۔مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے خطاب کے دوران سفارتی زبان میں دنیا کو جن چیالنجس کے متعلق متنبہ کیا ہے ان میں انہوں نے بالواسطہ یہ کہہ دیا ہے کہ امریکہ و اسرائیل نے ’’ان لوگوں کو تو شہید کردیا جو بات کرسکتے تھے اور سمجھ سکتے تھے ‘‘ اور اب ایران کی قیادت ہتھیار کی زبان بولنے اور سمجھنے والوں کے ہاتھ میں ہے تو ایسے دور میں جنگ کس قدر طویل ہوگی یہ کوئی کہہ نہیں سکتا۔مجتبیٰ خامنہ ای کا امت کے لئے پیام خلیجی ممالک کو دیئے گئے پیام میں ہی پوشیدہ ہے۔
پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے
بات جو بگڑی ہوئی تھی بنائی کس نے