پارلیمنٹ میں کئی تجربہ کار ارکان موجود۔ ملک اور ایوان کو اُن کی ضرورت ہے ۔ مانسون سشن سے قبل وزیر اعظم کا بیان
نئی دہلی۔ 20 جولائی (یو این آئی) وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن اور برسر اقتدار ارکان پارلیمنٹ سے پارلیمنٹ میں مل جل کر ملک کے مفاد میں کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسائل میں دم ہو اوردلیل پرمبنی بات ہو تو پرامن طریقے سے اٹھائی گئی مانگ بھی ایک بلند آواز بن سکتی ہے۔ مودی نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے میڈیا سے روایتی خطاب میں کہا کہ ہندوستان امیدوں سے بھرے نوجوانوں کا ملک ہے اور نوجوان چاہتے ہیں کہ ہم آگے بڑھیں۔ انہوں نے قوم کی آواز کو پارلیمنٹ میں جگہ دیے جانے اور ملک کو سمت دکھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مدلل بات کیلئے طوفان کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں انتہائی تجربہ کار ارکین کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امیدوں سے بھرے ملک کے نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ ہم آگے بڑھیں۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کے تئیں وفاداری سے بھرے ، حب الوطنی کیلئے جی رہے عوام کی آواز کو ایوان میں پلیٹ فارم ملتا رہے۔ ارکان اپنی آواز کو بلند کریں، ملک کو سمت دیں، اور میں امید کرتا ہوں، اور مجھے یقین ہے، جہاں حقائق ہوتے ہیں، جہاں دلیلیں ہوتی ہیں، وہاں طوفان کیلئے جگہ نہیں ہوتی۔ اگر دلیل مضبوط ہے، حقیقت مضبوط ہے، تو پرسکون دل سے بھی آواز کو بلند بنایا جا سکتا ہے۔ مودی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بہت تجربہ کار ارکان بھی ہیں، ان کا تعلق خواہ کسی بھی پارٹی سے ہو، لیکن ان کے پاس طویل تجربہ ہے۔ ایسے وقت میں ان کے تجربے اور ان کے علم کی پارلیمنٹ کو بھی ضرورت ہے، ملک کو بھی ضرورت ہے۔ اور اس کیلئے پارلیمنٹ کا چلنا، بامقصد بحث ہونا، مل جل کر ملک کو آگے لیجانے کا عزم کرنا، یہ میں سمجھتا ہوں کہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے مختلف خطوں میں جنگوں اور کشیدگی کے باعث دنیا کی تشویش کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کی جنگ سے تیل اور گیس کی ضرورتوں کیلئے درآمدات پر منحصر ہندوستان جیسے ملک کیلئے بڑا بحران پیدا ہوا۔ پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی، فرٹیلائزر اور کیمیکلز کی سپلائی میں کئی رکاوٹیں آئیں۔