باخموت شہر پر روس کے تابڑتوڑ حملےیوکرینی قیادت بچاؤ کیلئے پرعزم

   

کیف : یوکرین کی سیاسی و فوجی قیادت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ روسی فوج کے گھیرے میں آنے والے شہر باخموت کو ہر صورت بچایا جائے گا۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس باخموت کو نصف سال میں اپنی بڑی جنگی کامیابی کے طور پر ییش کرنا چاہتا ہے۔ایک برس سے زائد عرصہ قبل حملے کے بعد ماسکو نے یہ پہلی بار کہا ہے کہ باخموت شہر پر قبضہ دونباس کے پورے خطے پر قبضے کی طرف اہم قدم ہو گا۔یوکرین کی فوج کے اعلٰی حکام کا کہنا ہے کہ شہر باخموت اور اردگرد کے محاصرے میں آنے والے علاقوں پر دشمن کی جانب سے مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں۔پیر کو رات گئے اعلٰی فوجی حکام سے ملاقات کے بعد صدر زیلنکسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنا دفاع مضبوط بنائیں گے۔‘ ’میں نے اپنے کمانڈر انچیف سے کہا ہیکہ باخموت میں اپنے فوجیوں کی مدد کیلئے فورسز بھجوائی جائیں۔شدید لڑائی کے بعد دونوں ممالک کی فوجوں کے پاس گولہ بارود کی کمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں کیونکہ کئی روز سے اس کا مسلسل استعمال کیا جارہا ہے۔ کیف کے یورپی اتحادیوں نے اسے مزید گولہ بارود کے فراہمی کیلئے ایک نئے معاہدہ پر کام شروع کر دیا ہے۔روسی ملیشیا واگنر کے سربراہ نے پیر کو کہا تھا کہ اس کی فوج نے باخموت پر گرفت مضبوط کر لی ہے تاہم اسلحہ مہیا نہ کیا گیا تو اسے پسپائی اختیار کرنا پڑے گی انہوں نے روسی حکام پر زور دیا کہ انہیں امداد پہنچائی جائے۔اس کے سربراہ یوگینے پریگوزن نے روسی حکام کے نام ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ’اگر رینگر کو باخموت سے پسپائی اختیار کرنا پڑی تو پورا فرنٹ گر جائے گا جس سے روسی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔