قلعہ گولکنڈہ میں مرکزی جلسہ شہادت امام حسینؓ ،مولانا مفتی شمیم احمد نظامی اور مولانا سید متین علی شاہ کا خطاب
حیدرآباد 27 جون (راست) : باطل کو مٹانے اسوہ حسینی تا قیامت مشعل راہ رہا ہے۔ حضرت امام حسین نے راہ حق میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے اسلام کی بقا حق و صداقت کے لیے سب کچھ قربان کردینے کا بے مثال درس دیا۔ حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی تا قیامت انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ آپ نے نامساعد حالات کے باوجود حق کے لیے باطل طاقتوں کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیا۔ حضرت امام حسینؓ نے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی قربانی کو پیش کرکے اسلام کو زندہ جاوید کردیا۔ امام حسینؓ نے تنہا انبیاء علیہ السلام کی نیابت کا فریضہ میدان کربلا میں انجام دیا۔ ان خیالات کا اظہار مہمان مقرر مولانا مفتی شمیم احمد نظامی مصباحی (کولکتہ ) اور مولانا متین علی شاہ نے انتظامی کمیٹی مسجد اختری رسالہ بازار قلعہ گولکنڈہ کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ مرکزی جلسہ شہادت امام حسینؓ سے کیا۔ مولانا سید متین علی شاہ قادری نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ بزم انسانیت کے روشن چراغ ہیں۔ آپ کی عظیم قربانی قیامت تک انسانیت کی رہبری و رہنمائی کرتی رہے گی۔ حضرت امام حسینؓ نے اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان کی قربانی دی اور آپ اس مرحلہ میں صبر و استقامت، زہد و تقویٰ کی ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر تاریخ اسلام میں نہیں ملتی۔ حضرت امام حسینؓ نے جہاد اور نماز کا حسین امتزاج قائم کیا جس کو اختیار کرکے مسلمان دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ واقعہ کربلا تاریخ انسانیت کا بہت ہی اہم اور موثر واقعہ ہے جس کا فیضان تا قیامت جاری و ساری رہے گا۔ مولانا متین علی شاہ نے طلبا و نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اہل بیت اطہار کی پاکیزہ زندگیوں کا مطالعہ کریں اور اپنی عملی زندگی میں ان کی پاکیزہ سیرت کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔ مولانا شیخ ظاہر قادری عامری نے کہا کہ اہل بیت اطہار سے محبت وعقیدت رکھنا عبادت ہے۔ان کی سیرت سرتا پا اپنے میں قربانیوں کا ایک روشن مینار رکھتی ہے۔ اہل بیت اطہار کا تذکرہ دلوں کو سکون بخشتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حفاظت ایمان کے خاطر اہل بیت اسے تعلق اور وابستگی باعث نجات اور ایمان کی حفاظت کے ساتھ سرچشمہ ہدایت ہے۔ جناب ایم اے مجیب ایڈوکیٹ و صدر کل ہند بزم رحمت عالم نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔
انھوں نے ایس آئی آر کے متعلق عوام الناس سے اپیل کی کہ ایس آئی آر کے لیے اپنے ناموں کے اندراج میں غفلت و تساہلی ہر گز نہ کریں اس کے دور رس نتائج ٹھیک نظر نہیں آرہے ہیں جو فرد کی شناخت اور قومیت تک بات آسکتی ہے۔جلسہ کا آغاز قاری محمد منیب احمد، محمد معین الدین عامری کی قرات کلام پاک سے ہوا۔ جناب فیاض علی سکندر ، قاری محمد معز الدین فراز اور قاری ، سید نور احمد شاہ قادری نے نعت شریف اور منقبت بارگاہ امام عالی مقامؓ میں پیش کی۔ اس،موقع پر الحاج افسر علی خان، قاری محمد سلمان احمد، نصراللہ خان رضوان، عبدالسعید خان، قاری مجاہد خان، سید کلیم الدین، رحمت خان، قاری سید نور محمد شاہ قادری ، قاری محمد محبوب، قاری سید قمرالدین قادری الملتانی ، قاری سید حمید الدین اور دیگر نے انتظامات میں حصہ لیا۔ اس موقع پر دعائے عاشورہ پڑھائی۔ آخر میں قاری محمد سلمان احمد کنوینر کے شکریہ پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔