پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں اقلیتوں خصوصی طور سے مسلمانوں کو نظرانداز کیا گیا ہے ،حالانکہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈالنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے ۔اس کے نتیجہ میں اس مرتبہ اقلیتی امور کی وزارت کے لئے مختص بجٹ میں 2.7 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے ،مگر حیرانی والی بات یہ ہے کہ اقلیتی امور کی زیادہ تر اسکیموں میں کٹوتی کی گئی ہے ۔انہوں نے مرکزی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ اقلیتوں کے لئے کوچنگ اور اس سے منسلک اسکیموں کو اس سال مختص تیس کروڑ روپے سے کم کرکے دس کروڑ کر دیا گیا ہے ۔اقلیتوں کے لئے بیرون ملک کے لئے تعلیمی قرضوں پر دی جانے والی سود پر چھوٹ بھی کم کر دی گئی ہے ۔25-2024 کے بجٹ میں مدارس و اقلیتوں کے لئے تعلیمی اسکیم کا بجٹ دس کروڑ سے کم کر دو کروڑ کر دیا گیا ہے ۔البتہ بیشتر اسکیموں کے بجٹ میں مزیر کٹوتی کی گئی ہے ۔قومی اقلیتی و ترقیاتی کارپوریشن میں مرکزی حصہ میں کوئی پروویژن نہیں ہے ۔اقلیتوں و مدارس کے لئے تعلیمی اسکیم میں 8کروڑ کی کمی ،اور قومی اقلیتی کمیشن کے بجٹ میں ایک کروڑ روپے کی کمی کی گئی ہے ۔مولانا آزاد فاونڈیشن کے لئے کوئی نظم نہیں کیا گیا ہے ۔اس طرح مہنگائی و بے روزگاری پر قابو پانے کے لئے کوئی مثبت نظم نہیں کیا گیا ہے ۔کسان بھی اس بجٹ سے مایوس ہوئے ہیں ،ان کے لئے کچھ خاص نہیں کیا گیا ہے ۔