مرکزی بجٹ میں سات ترجیحات پر توجہ مرکوز، زرعی قرضے کا ٹارگٹ بڑھ کر 20لاکھ کروڑ روپئے
نئی دہلی : مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتارامن نے اپنا 5 واں مرکزی بجٹ اور 2019 میں برسراقتدار آنے والی مودی 2.0 حکومت کا آخری مکمل بجٹ آج پارلیمنٹ میں پیش کیا۔ وزیر خزانہ نے ذاتی انکم ٹیکس کی حد بڑھانے سے لے کر کئی اعلانات کیے۔ 5 لاکھ سے 7 لاکھ روپے تک سرمایہ کاری میں 33 فیصد کا زبردست اضافہ 10,00,000 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اقلیتی امور کی وزارت کو بدھ کو 2023-24کے مرکزی بجٹ میں 3097.60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو پچھلے مالی سال کے نظرثانی شدہ اعداد و شمار سے 484.94 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کے ذریعہ 2023-24کے پیش کردہ بجٹ میں مرکز نے اقلیتی امور کی وزارت کو 3,097.60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی۔بجٹ میں مدارس میں جدید مضامین متعارف کرانے، اساتذہ کی تربیت اور اقلیتی اداروں میں اسکول کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے کے لیے مالی امداد دینے کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔مالی سال 2022-23میں مدارس اور اقلیتوں کے لیے تعلیمی اسکیم کے لیے 60 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ اس سے ایک سال قبل، مرکز نے اس پر 161.53 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔مالی سال 2022-23 میں اقلیتی امور کی وزارت کا بجٹ تخمینہ 5,020.50 کروڑ روپے تھا اور بعد میں نظرثانی شدہ مختص رقم 2,612.66 کروڑ روپے تھی۔وزارت کو مجوزہ مختص میں سے 433 کروڑ روپے پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے لیے ہیں اور 1,065 کروڑ روپے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے لیے ہیں۔وہیں میرٹ کی بنیاد پر اقلیتی برادریوں کے طلباء کے لیے پروفیشنل اور ٹیکنیکل کورسز کے لیے اسکالرشپ میں 87 فیصد کی کمی کی گئی ہے، جس کے لیے مرکزی بجٹ 2023 میں صرف 44 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ رواں سال کے بجٹ میں 365 کروڑ روپے رکھے گئے تھے۔ اسکالرشپ اسکیم کے لیے مختص کیا گیا ہے۔مزید برآں، اقلیتی امور کی وزارت کے تحت اقلیتوں کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ میں مرکزی بجٹ 2023 میں 992 کروڑ روپے کی کمی دیکھی گئی ہے۔ جس میں 2022-23میں 1,425 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔پچھلے سال، 9ویں جماعت سے کم کلاسوں میں بچوں کو خارج کرنے کے لیے اہلیت کے معیار پر نظر ثانی کی گئی تھی۔ اسی طرح مدارس اور اقلیتوں کے لیے تعلیمی اسکیم میں 93 فیصد کی بڑے پیمانے پر کٹوتی دیکھی گئی ہے جس میں بجٹ 2023-24میں 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔اقلیتوں کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ میں نمایاں کا106فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔جو کہ 2022-23کے بجٹ میں 550 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1,065 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔اقلیتی طلباء کے لیے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے جس میں مرکزی بجٹ 2023-24میں اسکیم کے لیے 96 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پچھلے سال فیلو شپ کو 99 کروڑ روپے ملے تھے۔ ایم اے ای ایف کو 10 لاکھ روپے ملے ہیں۔ پچھلے سال فاؤنڈیشن کو ایک لاکھ روپے ملے تھے۔اقلیتوں کے لیے مفت کوچنگ اور اس سے منسلک اسکیموں کے لیے مختص کرنے کے لیے اس کا بجٹ 30 کروڑ روپے تک محدود کردیا گیا ہے۔ 2022-23میں بجٹ 79 کروڑ روپے مختص کیا گیا تھا جس پر نظر ثانی کی گئی۔مدارس اور اقلیتوں کے لیے تعلیمی اسکیم میں 150 کروڑ روپے کی بڑے پیمانے پر کٹوتی ہوئی ہے، جس میں 2023-24کے مرکزی بجٹ میں صرف 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نظرثانی شدہ تخمینہ بھی 81 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔زرعی قرضے کا ہدف بڑھا کر 20 لاکھ کروڑ روپے کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ زرعی قرضہ جات کے ہدف کو بڑھا کر 20 لاکھ کروڑ روپے کیا جائے گا، جس میں مویشی پالنے، ڈیری اور ماہی پروری پر توجہ دی جائے گی، وزیر نے کہا کہ پی ایم متسیا سمپدا یوجنا کی ایک نئی ذیلی اسکیم بھی شروع کی جائے گی۔ 6,000 کروڑ روپے کی ہدفی سرمایہ کاری کے ساتھ شروع کیا گیا۔فروری 2023 وزیر خزانہ کا ٹرانسپورٹ انفرا پراجیکٹس پر زوز 50 اضافی ہوائی اڈے، ہیلی پورٹ، واٹر ایروڈروم، اور جدید لینڈنگ زونز کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اسٹیل، بندرگاہوں، کھاد، کوئلہ، غذائی اجناس کے شعبوں کے لیے 100 اہم ٹرانسپورٹ انفرا پراجیکٹس کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں 75,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے جس میں نجی ذرائع سے 15,000 کروڑ روپے شامل ہیں، وزیر خزانہ نے نئے ٹیکس نظام کو عام ٹیکس دہندگان کے لیے پرکشش بنانے کی کوشش کی ہے تاکہ پرانے نظام کو چھوڑ کر نئے نظام کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔زیادہ آمدنی والے ٹیکس دہندگان پر زیادہ سے زیادہ موثر ٹیکس کی شرح 42.7 فیصد سے کم کر کے 39 فیصد کر دی گئی ہے۔ سیتا رمن نے طویل مدتی ٹیکس کی شرح میں اضافہ نہیں کیا، جس سے اسٹاک مارکیٹوں میں جوش و خروش دیکھا گیا اور تجارت کے دوران بمبئی اسٹاک ایکسچینج انڈیکس تقریباً 1,000 پوائنٹس چھلانگ لگایا۔ اگنی ویروں کے فنڈ میں تین گنا چھوٹ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اگنی ویروں فنڈ میں سرمایہ کاری کے تینوں مراحل، سرمایہ کاری پر ہونے والی آمدنی اور سرمایہ کاری کی واپسی کے وقت ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی۔خزانہ اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں 23-2022 کا مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آتم نربھر کلین پلانٹ پروگرام2200 کرو ڑ روپئے کی لاگت سے شروع کیا جائے گا تاکہ بیماری سے پاک زیادہ قیمت کی باغبانی کے فصلوں کے لئے معیاری پلانٹنگ مٹیریل کی دستیابی کو فروغ دیا جاسکے۔اپنی بجٹ تقریر میں، وزیر خزانہ نے کہا کہ دیہی علاقوں میں نوجوان صنعت کاروں کی زرعی اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی کے لئے ایک زرعی ایکسلریٹر فنڈ قائم کیا جائے گا۔اس فنڈ کا مقصد یہ ہوگا کہ کسانوں کو درپیش چیلنجوں سے باہر لانے کے لئے اختراعی اور سستے حل فراہم کئے جاسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی طور طریقہ کو بدلنے کے لئے، جدید ٹکنالوجی بھی لائی جائے گی اور پیداوار بڑھانے کے علاوہ منافع میں اضافہ کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی بھی لائی جائے گی۔شری انّ ‘کے طورپر موٹے اناج کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ، ہندوستان موٹے اناج کو مقبول بنانے میں پیش پیش ہے، جس کی کھپت سے زیادہ غذائیت، خوراک کی یقینی فراہمی اور کسانوں کی فلاح وبہبود کو ممکن کیا جاسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دنیا میں موٹے اناج (شری انّا) کا سب سے بڑا پیداوار والا ملک ہے اور وہ اس کا دوسرا سب سے بڑا برآمد کار ہے اور جوار ، راگی، باجرہ، کٹو، رامدانہ، کنگنی، کٹکی، کدو، چنا اور ساما جیسے موٹے اناج کی بہت سی مختلف قسمیں ملک میں اگائی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ ان کے استعمال سے صحت کے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اور صدیوں سے ہندوستان کی خوراک کا اٹوٹ حصہ رہا ہے۔وزیرخزانہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان فصلوں کو اگا کر چھوٹے کسانوں نے اہم وطنوں کی صحت میں خاطرخواہ تعاون دے کر عظیم خدمت انجام دی ہے جس پر ہمیں فخر بھی ہے۔ہندوستان کو موٹے اناج کا ایک عالمی مرکز بنانے کے لئے حیدرآباد کے موٹے اناج کی تحقیق کا انڈین انسٹی ٹیوٹ کی مہارت کے مرکز کے طور پر ضروری مدد کی جائے گی اور اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر بہترین طور طریقہ ، تحقیق اور ٹیکنالوجی مشترک کی جائیں گی۔