دیکھ ائے گردشِ دوراں تو پلٹ کر ہم کو
تیری تصویر ہی اب تجھ کو دکھانا ہے مجھے
ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی اور مشرق وسطی میں ٹکراؤ کے دوران ہندوستانی بحری جہاز اور بحری جہاموں کا ہندوستانی عملہ مسلسل نشانہ بنائے جا رہے ہیں اور ہندوستانی ملاحوں کی اموات بھی واقع ہوئی ہیں۔ آبنائے ہرمز اور ساحل اومان کے آس پاس بحری جہازوں پر اس طرح کے حملے کئے جا رہے ہیں جس کے نتیجہ میں ہندوستانی ملاحوں کی اموات بھی واقع ہو رہی ہیں اور ہندوستان کے بحری جہازوں کو بھی نقصان ہوا ہے ۔ یہ حملے امریکہ کی جانب سے کئے جا رہے ہیں اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ بحری اور آبی حدود کی خلاف ورزی کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہو رہی ہے ۔ حیرت بات یہ ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمد و رفت کی وکالت کر رہا ہے اور ایران کی جانب سے عائد کی جانے والی تحدیدات اور پابندیوںکو ختم کرنے کی بات کر رہا ہے لیکن یہاں سے گذرنے والے جہازوں کو خود حملوں کا نشانہ بھی بنا رہا ہے ۔ یہ صورتحال ہندوستان کیلئے باعث تشویش ہی کہی جاسکتی ہے اور اس طرح کے مسلسل حملوں کا سلسلہ روکا جانا چاہئے ۔ ہندوستان اس معاملے میں امریکہ کے ساتھ اپنے احتجاج بھی درج کروا رہا ہے اس کے باوجود حملوں کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔ تازہ کارروائی میں ایک ایسے جہاز کو نشانہ بنایا گیا جس پر عملہ کے 20 ہندوستانی ارکان بھی موجود تھے ۔ اس سے قبل ایک اور جہاز پر حملہ کیا گیا تھا جس پر عملہ کے 24 ہندوستانی ارکان موجود تھے ۔ اس حملے میں تین ہندوستانی ملاحوں کی موت واقع ہوگئی ۔ ابتداء میں انہیں لاپتہ قرار دیا گیا تھا تاہم بعد میں ان کی نعشیں دستیاب ہوگئیں ۔ اس طرح کے لگاتار حملے اور کارروائیاں باعث تشویش ہیں اور ہندوستان نے اس معاملہ کا سخت نوٹ لیا ہے ۔ امریکہ سے احتجاج درج کروانے کیلئے امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کو دفتر خارجہ میں طلب کیا اور تشویش سے واقف کروایا ۔ گذشتہ تین دن میں یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی سفارتخانہ کے ڈپٹی چیف آف مشن جیسن میکس کو طلب کرتے ہوئے احتجاج درج کروایا گیا ہے ۔ امریکی سفارتکار نے اس کا نوٹ لینے کی بات تو کہی ہے تاہم حملے ابھی روکے نہیں گئے ہیں ۔
سمندری اور آبی حدود میں تجارتی جہاموں کی آمد و رفت دنیا میں معیشت کے استحکام کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ ان جہازوں پر عملہ کے جو ارکان ہوتے ہیں وہ اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہیں اور تجارتی ساز و سامان کی منتقلی میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ ان کی حفاطت اور سلامتی پر خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کی سکیوریٹی کیلئے تمام ممالک پابند عہد بھی ہوتے ہیں۔ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے ان جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور عملہ کے جو ارکان ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے ۔ امریکہ کو سارے معاملے کا نوٹ لیتے ہوئے فوجی کارروائیوں میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ سمندر کے پانیوں میں جہاز اور جہاز کا عملہ دونوں ہی محفوظ رہیں۔ جہاں تک آبنائے ہرمز کی بات ہے تو امریکہ یہ دعوی کر رہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کو تقریبا قطعیت دی جاچکی ہے اور بہت جلد معاہدہ پر دستخط ہوسکتے ہیں۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ مشرق وسطی کے کئی ممالک نے اور مصالحت کاروں نے بھی معاہدہ کو عملا منظوری دیدی ہے اس سب کے باوجد بحری جہاز پر تازہ حملہ ناقابل فہم ہی کہا جاسکتا ہے اور اس کے پس پردہ محرکات کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ حملوں کو روکنے اور عملہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے امریکہ کے اعلی حکام سے بھی اس مسئلہ کو رجوع کیا جانا چاہئے ۔ ضابطہ کی کارروائی کیلئے محض احتجاج درج کروانے پر ہی اکتفاء نہیں کیا جانا چاہئے ۔
امریکہ کو بھی اس معاملے کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ امریکی فوج کے سنٹرل کمان کی جانب سے حملوں کی توثیق کی جا رہی ہے اور نقصانات کا بھی اعتراف کیا جا رہا ہے لیکن حملوں کو روکنے اور عملہ کے ارکان کی حفاظت کیلئے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔ امریکہ کے اعلی حکام ‘ محکمہ دفاع کے ذمہ داروں اور پنٹگان کو بھی اس سارے معاملے کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ علاقائی کشیدگی کی وجہ سے جہازوں پر حملوںاور عملہ کے ارکان کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روکا جانا چاہئے تاکہ عملہ کے ارکان میں بے چینی کی کیفیت کم ہوسکے اور آبی گذرگاہوں پر خوف کا ماحول بننے نہ پائے ۔ عالمی تجارتی استحکام کیلئے ایسا کرنا ضروری ہے ۔