سولن: سلمان رشدی کی آبائی جائیداد کے متولی نے سولن میں ہندوستانی نژاد بدنام زمانہ مصنف سلمان رشدی کی جائیداد’’ انیس ولا‘‘ پر ہریانہ کے دو افرادکے دعوے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔گووند رام کی اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اے اے سید اور جسٹس جیوتسنا ریوال دوا کی ڈیویژن بنچ نے تنازعہ کو دیوانی معاملہ قرار دیا ہے۔ ڈویژن بنچ نے درخواست کی یکسوئی کرتے ہوئے معاملہ کو سول عدالت میں طے کرنے کی اجازت دے دی۔سولن کے رہائشی گووند رام، جو جائیداد کی دیکھ بھال کر رہے تھے، نے درخواست میں الزام لگایا تھا کہ گروگرام (ہریانہ) کے رہنے والے انیرودھ وجے شنکر داس اور راجیش ترپاٹھی نے رشدی کی جائیداد پر حق کا دعویٰ کیا ہے۔دونوں نے رشدی کی جائیداد کے حوالے سے خصوصی پاور آف اٹارنی ہولڈر کو دینے کی بات کی ہے۔ ساتھ ہی، درخواست گزار نے الزام لگایا کہ وہ 1997 سے جائیداد کی دیکھ بھال کر رہا ہے اور اب اسے زبردستی نکالا جا رہا ہے۔اس جائیداد پر پہلے محکمہ ریونیو کا قبضہ تھا۔ قانونی جنگ لڑنے کے بعد محکمہ نے جائیداد ان کے حوالے کر دی تھی۔ہریانہ کے دو افراد کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ رشدی نے جائیداد کی دیکھ بھال کے لیے وجے شنکر داس کو وکیل مقرر کیا تھا۔اس نے درخواست گزار کو اس جائیداد کی دیکھ بھال کے لیے تعینات کیا تھا۔ اٹارنی ہولڈر وجے شنکر داس کا 10 سال قبل انتقال ہو گیا تھا۔ اس طرح، اس پراپرٹی کا کوئی اٹارنی ہولڈر نہیں ہے۔