قریبی تاجرین اور رفقاء سے مدد لینے کی کوشش ۔ مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں سے ہلچل
حیدرآباد۔22۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور انکم ٹیکس کاروائیوں نے ٹی آر ایس قائدین میں ہلچل پیدا کردی ہے اور وہ اپنے قریبی تاجرین اور رفقاء کے پاس دولت محفوظ کرنے کوشش کر نے لگے ہیں۔ 9 نومبر کو وزیر جی کملاکر کے تجارتی اداروں پر ای ڈی کی کاروائیوں کے بعد ایک اور وزیر سرینواس یادو کے بھائیوں اور ان کے شخصی مددگار سے پوچھ تاچھ اور اب وزیر سی ایچ ملا ریڈی اور ان کے افراد خاندان کے مکانات اور دفاتر پر انکم ٹیکس کے دھاؤوں سے ٹی آر ایس قائدین بالخصوص وزراء میں ہلچل پیدا ہوچکی ہے اور وہ اپنے قریبی رفقاء اور دوستوں سے رابطہ کرکے اپنی دولت کو چھپانے میں مدد کی خواہش کرنے لگے ہیں۔ منوگوڑانتخابات کے بعد تلنگانہ میں مرکزی ایجنسیوں کی کاروائیوں میں شدت پیدا ہونے کے اندیشے تھے لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس رفتار سے مرکزی ایجنسیاں کاروائی کا آغاز کرینگی ۔ ذرائع کے مطابق ٹی آر ایس قائدین اور وزراء نے فوری حرکت میں آکر اپنے بچاؤ کے اقدامات شروع کردیئے ہیں اور کہا جار ہا ہے کہ جن وزراء اور منتخبہ نمائندوں کو یقین تھا کہ ان کے خلاف کاروائی ہوگی وہ اپنے طور پر اپنی جائیدادوں اور نقد رقومات کی منتقلی و سرمایہ کاری کے انتظامات کرچکے ہیں اس کے باوجود ان کے خلاف کاروائی کے امکانات میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔ وزراء کے خلاف کاروائیوں کو بعض گوشوں سے سیاسی رنجش قرار دیا جا رہاہے جبکہ اپوزیشن اور بی جے پی قائدین کا دعویٰ ہے کہ انکم ٹیکس اور ای ڈی کی کاروائیاں دراصل اب تک موصول شکایات کا جائزہ لینے کے بعد شروع کی گئی ہیں ۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس قائدین اور وزراء کی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں پر ایک سے زائد مرتبہ شکایات روانہ کی گئی تھی اور مرکزی حکومت کے علاوہ سی بی آئی ‘ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور انکم ٹیکس عہدیداروں کوبھی شکایات کی نقولات حوالہ کی گئی تھیں لیکن ان شکایات پر اب کاروائیوں کا آغاز کیا گیا جس ٹی آر ایس قائدین ان کاروائیوں کو انتقامی کاروائی قرار دے رہے ہیں ۔ وزیر لیبر کی بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں پر صدرپردیش کانگریس ریونت ریڈی نے سال گذشتہ سی بی آئی ‘ ای ڈی کے علاوہ انکم ٹیکس کو شکایات روانہ کرکے شواہد منسلک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔م