برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم ، ہندوستانی طلبہ کی دوگنی تعداد

   

تاحال لاکھوں ویزوں کی اجرائی ، مملکتی وزیر برطانیہ نائیجل ایڈمس کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/12جون، ( سیاست نیوز) برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے جانے والے ہندوستانی طلبہ کی تعداد میں دوگنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مارچ سال 2022 تک ایک لاکھ 8 ہزار اسٹوڈنٹس ویزا کی اجرائی عمل میں لائی گئی۔ برطانیہ کے مملکتی وزیر نائیجل ایڈمس نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ گزشتہ سال کی بہ نسبت جاریہ سال اسٹوڈنٹ ویزا میں 93 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے کثیر تعداد میں برطانیہ کا رُخ کرتے رہے ہیں اور اس سے ہند ۔ برطانیہ کے تعلقات مزید گہرے ہورہے ہیں۔ نائیجل نے کہا کہ برطانیہ اعلیٰ تعلیم کیلئے دنیا بھر کا مرکز ہے چونکہ یہاں پر دنیا کی ٹاپ 10 یونیورسٹیز میں سے 4 یونیورسٹیز برطانیہ کی ہیں جبکہ 50 ٹاپ یونیورسٹیز میں 17 لندن میں موجود ہیں۔ نائیجل نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ ہندوستانی ماہر ہنر مندی کے زمرہ میں 44 فیصد برطانوی ویزا حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ سال مارچ تک 80 ہزار ہنرمندوں کو ویزا کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے اور اس سے ہند۔ برطانیہ کے گہرے تعلقات ظاہر ہوتے ہیں۔ برطانوی وزیر نائیجل ایڈمس نے کہا کہ ہند ۔ برطانیہ معاشی تعلقات میں تلنگانہ ایک اہم رول ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد دفاعی اور صحت کے شعبہ میں ملک میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ ملاقات میں دفاعی، سلامتی، صحت اور ماحولیات وغیرہ میں معاہدے کئے ہیں جس میں تلنگانہ کا اہم رول ہے۔ برطانوی وزیر نے کہا کہ انہوں نے تلگو فلم صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات کی ہے اور انہوں نے یہ پہلو ان کے علم میں لایا ہے کہ برطانیہ میں فلموں کی شوٹنگ کیلئے ویزا کے حصول میں دشواری پیش آرہی ہے اور اس کے لئے خصوصی انتظام کیا جائے تاکہ انہیں برطانیہ میں فلموں کی شوٹنگ کیلئے آسانی ہوسکے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے پس منظر میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ یوکرین کو انسانی امداد کی فراہمی میں سرفہرست ہے اور فوجی و دیگر مدد بھی یوکرین کو فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے پناہ گزینوں کیلئے بھی برطانیہ کے دروازے کھلے ہیں۔ میڈیا سے بات چیت کے دوران برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر اینڈرو فلیمنگ اور دیگر موجود تھے۔ب