حیدرآباد ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر آر وی کرنن کی وضاحت ۔ تنازعہ اور افواہوں کا خاتمہ
حیدرآباد : /9 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں ان دنوں (SIR-2026) کی مہم بڑے پیمانے پر چل رہی ہے ۔ اس دوران سوشل میڈیا اور فیلڈ لیول پر مسلم خواتین کے حجاب اور اسکارف والی تصاویر پر پیدا ہونے والی شدید الجھن اور تنازعہ پر انتخابی حکام نے بڑا اور حتمی فیصلہ سنادیا ہے ۔ حیدرآباد کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر آر وی کرنن نے اس حساس معاملے پر باقاعدہ وضاحت جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ SIR کے عمل میں حجاب یا سر پر اسکارف پہننے والی خواتین ووٹرس کی تصاویر مکمل طور پر قابل قبول ہیں اور الیکشن کمیشن کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر یہ افواہیں تیزی سے پھیل رہی تھی کہ SIR سروے کے اینومیریشن فارمس پر حجاب پہننے والی مسلم خواتین کی تصاویر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے مسترد کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ گراؤنڈ لیول پر کچھ پولنگ بوتھس پر یہ شکایات بھی سامنے آئی ہے کہ چند بی ایل اوز حجاب پوش خواتین ووٹرس کے فارم صرف اس عجیب و غریب بنیاد پر قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں کہ ان تصاویر میں خواتین کے کان نظر نہیں آرہے ہیں ۔ ان گمراہ کن افواہوں اور BLOs کی من مانی سے حیدرآباد و دیگر اضلاع میں جہاں مسلم ووٹرس کی اکثریت ہیں تشویش ، الجھن اور ناراضگی کی لہر پائی جارہی تھی ۔ عوام میں بڑھتی اس بے چینی کو دیکھتے ہوئے حیدرآباد ضلع الیکشن آفیسر آر وی کرنن نے فوری اس مبینہ تنازعہ کا خاتمہ کردیا ۔ انہوں نے بی ایل اوز اوراعلیٰ حکام کو سخت ہدایات جاری کرکے کہا کہ اگر خواتین حجاب یا ہیڈ اسکارف پہنی ہیں تو ان کے فارمس مسترد نہ کئے جائیں ۔ الیکشن کمیشن قوانین کے مطابق صرف ایک بنیادی شرط ہے کہ خاتون کا چہرہ مکمل اور واضح نظر آئے تاکہ ان کی شناخت آسانی سے ہوسکے ۔ چہرہ صاف ہونے پر کان ڈھکے ہونے یا اسکارف بندھا ہونے سے فارم کی قبولیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ الیکشن کمیشن کی اس فوری اور واضح یقین دہانی کے بعد شہر اور دیگر اضلاع میں حجاب کی تصاویر کو لے کر جاری تمام افواہوں اور تنازعات کا اب خاتمہ ہوگیا ہے ۔ 2/y