برقی شرحوں میں اضافہ کی کانگریس سخت مخالف : ریونت ریڈی

   

ریگولیٹری اتھاریٹی کی سماعت میں شرکت، برقی اداروں کے خسارہ کیلئے حکومت ذمہ دار
حیدرآباد۔/25 فروری، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں برقی شرحوں میں اضافہ کی شدت سے مخالفت کی ہے۔ انہوں نے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے بھاری نقصانات کیلئے ریاستی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا۔ ریونت ریڈی نے آج تلنگانہ اسٹیٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری اتھاریٹی کی جانب سے منعقدہ عوامی سماعت میں حصہ لیتے ہوئے ڈسکامس کیلئے مالیاتی سال 2022-23 سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ 2014-15 میں ڈسکامس کا قرض 11000 کروڑ تھا۔ مرکزی حکومت سے بھاری قرض ضمانت حاصل کرنے کے نتیجہ میں قرض کا بوجھ 2000 کروڑ تک گھٹ چکا تھا۔ موجودہ ڈسکامس کا قرض 60 ہزار کروڑ ہوچکا ہے۔ ریاستی حکومت کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں کے نتیجہ میں برقی کمپنیاں بحران سے دوچار ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برقی ادارے حکومت سے بقایا جات وصول کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری صارفین کو 16 ہزار کروڑ کی سبسیڈی فراہم کی جارہی ہے لیکن حکومت محض 5652 کروڑ روپئے ادا کررہی ہے جس کے نتیجہ میں ہر سال تقریباً 10400 کروڑ کا اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت خود بھی برقی صارف کے برابر ہے۔ عام آدمی اگر بلز ادا نہ کرے تو املاک کو ضبط کیا جاتا ہے لیکن حکومت سے بقایا جات حاصل کرنے کیلئے ڈسکامس خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکامس کو چاہیئے کہ وہ حکومت سے بقایا جات کے حصول پر توجہ دے۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ برقی صارفین پر تقریباً 18 فیصد اضافی بوجھ عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔ کانگریس پارٹی اس تجویز کی مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برقی اداروں کو تباہ کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات برسوں میں حکومت نے برقی اداروں کو بری طرح نظرانداز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ سے برقی خریدی پر 261 کروڑ عوامی رقومات ضائع کی گئی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ برقی عہدیدار برسراقتدار پارٹی قائدین کی طرح کام کررہے ہیں۔ ملک میں برقی کے شعبہ میں نمبر ون ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ ملک کے 41 ڈسکامس میں تلنگانہ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی 23 ویں مقام پر ہے جبکہ ناردن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی 33 ویں مقام پر ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ برقی چوری میں حیدرآباد پہلے مقام پر ہے جبکہ سدی پیٹ دوسرے اور گجویل تیسرے مقام پر ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زرعی شعبہ کو برقی سربراہی کی تفصیلات دیگر شعبہ جات سے علحدہ طور پر پیش کرے۔ر