بھٹی وکرامارکا کا دعوی، کالیشورم کے نام پر ایک لاکھ کروڑ کی لوٹ، بھوپال پلی میں جلسہ عام خطاب
حیدرآباد : 17 جون (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے کالیشورم پراجکٹ کے نام پر بھاری لوٹ مچائی لیکن آج بی آر ایس قائدین اسے میگا پراجکٹ قرار دے رہے ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے بھوپال پلی ضلع میں 8.70 کروڑ سے تعمیر کردہ برقی سب اسٹیشن کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سریدھر بابو اور ضلع کے عوامی نمائندے موجود تھے۔ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ نیشنل ڈیم سیفٹی اتھاریٹی نے پراجکٹ میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی ہے اور اسے ایک پرخطر پراجکٹ قرار دیا ہے۔ کانگریس دور حکومت میں جو پراجکٹس تعمیر کئے گئے تھے ان میں آج تک کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی جبکہ کالیشورم پراجکٹ تعمیر کے ساتھ ہی نقائص کو منظر عام پر لاچکا ہے۔ پراجکٹ کے تحت تعمیر کئے گئے بیاریجس میں بھی خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ برقی کی طلب میں 2000 میگاواٹ کا گزشتہ ایک سال میں اضافہ ہوا لیکن حکومت بلاوقفہ برقی سربراہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہی کے لیے ہر سال 13992 کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔ بی آر ایس قائدین نے کالیشورم کے نام پر ایک لاکھ کروڑ کی لوٹ مچائی ہے۔ پراجکٹ میں خرابی کی تصاویر کو میڈیا نے بے نقاب کیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں ناگرجنا ساگر، سری سیلم، ایس آر ایس پی اور دیگر پراجکٹس تعمیر کئے گئے لیکن آج تک ان میں کوئی خامی پیدا نہیں ہوئی۔ مارچ 2025ء میں 17162 میگاواٹ برقی طلب ریکارڈ کی گئی جو مارچ 2023ء کے مقابلہ 2000 میگاواٹ زائد ہے۔ باوجود اس کے ایک منٹ بھی سربراہی میں خلل نہیں ہوا۔ برقی اداروں کو حکومت نے 16 ہزار کروڑ ادا کئے ہیں تاکہ کسانوں کو معیاری برقی سربراہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 200 یونٹ مفت برقی سربراہی کے تحت 50 لاکھ خاندان استفادہ کررہے ہیں۔ حکومت تعلیمی اداروں کو مفت برقی سربراہی پر غور کررہی ہے۔ ریاست کی کمزور معاشی حالت کے باوجود ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی ہے۔ انتخابی وعدوں کی تکمیل کی گئی اور رئیتو بھروسہ اسکیم کے تحت 13600 کروڑ جاری کئے گئے۔آئندہ 9 دنوں میں 9 ہزار کروڑ روپئے کسانوں کے اکائونٹ میں جمع کئے جائیں گے۔ گزشتہ 10 برسوں میں ایک بھی ڈبل بیڈروم مکان تعمیر نہیں کیا گیا جبکہ کانگریس حکومت اندراماں ہائوزنگ کے تحت 4.5 لاکھ مکانات تعمیر کررہی ہے۔ راجیو یووا وکاسم کے تحت بے روزگار نوجوانوں کو 8 ہزار کروڑ سبسیڈی پر مبنی قرض فراہم کیا جائے گا۔ ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولوں کی تعمیر کے لیے 11,500 کروڑ مختص کئے گئے۔1