برکس کی حقیقی کہانی، کون کیا چاہتا ہے

   

شیکھر گپتا
برکس کی اصل کہانی یہ ہے کہ چین کیا چاہتا ہے، روس کیا چاہتا ہے اور بھارت کیا خواہش رکھتا ہے۔ہندوستان، چین اور روس میں باہمی ہم آہنگی سے زیادہ تضادات پائے جاتے ہیں۔ ہر ایک کا نقط نظر مختلف ہے اور ہر ایک کا مخالف بھی مختلف ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ برکس (BRICS) ایسے تمام گروپوں میں سب سے زیادہ غیر متعلقہ گروپ ہے۔
ٹی وی چینلز ایسا ظاہر کر رہے ہیں جیسے یہ 2023ء میں جی-20 سربراہی اجلاس کے بعد عالمی رہنماؤں کا سب سے اہم اجتماع ہو، جو ایک بار پھر نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس مرتبہ اس میں “جوش” کا ایک اضافی پہلو بھی شامل ہے۔ذرا ان مبالغہ آمیز تصاویر کو دیکھیے، جن میں شوخ رنگوں کے پس منظر اور جنگی طرز کی ڈھول کی تھاپ کے ساتھ نریندر مودی، شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن کو ایک ساتھ دکھایا جا رہا ہے۔ اس کا بمشکل پوشیدہ پیغام یہ ہے کہ یہ تینوں “شیطانی مغرب” کے خلاف متحد ہوگئے ہیں۔ یا پھر یہ کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو “اس کی جگہ دکھا دی ہے۔تمام حکومتیں، خصوصاً مضبوط شخصیت پر مبنی حکومتیں، اپنی شبیہ بہتر بنانے کے لیے سربراہی اجلاسوں کو استعمال کرتی ہیں۔ مودی حکومت نے تو اسے ایک فن کی شکل دے دی ہے۔ لیکن برکس کے معاملے میں اس کی ساخت، توازن اور باہمی تضادات کے باعث یہ عناصر آپس میں ہم آہنگ نہیں ہوتے۔
اس زبردست تشہیری مہم میں پیش کیے جانے والے تین طاقتور رہنماؤں میں باہمی ہم آہنگی سے کہیں زیادہ تضادات ہیں۔ ہر ایک کا عالمی نقط نظر مختلف ہے اور اس کا مخالف بھی مختلف ہے۔ روس، چین کا اتحادی ہے اور کسی حد تک اس پر منحصر بھی ہے۔ بھارت چین کو اپنے وجود کے لیے ایک بڑا حریف سمجھتا ہے۔ جبکہ چین باقی دونوں کو اتنا کمزور سمجھتا ہے کہ وہ کھیل کے اصول خود طے کرسکتا ہے اور خود کو اس کھیل کی سلطنت کا سربراہ بنا سکتا ہے؛ پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے پر۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ برکس ایسے تمام گروپوں میں سب سے زیادہ غیر متعلقہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ نیٹو (NATO) کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے یا اسے کس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ آپ دوسرے گروپ بھی گن سکتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) وہ تنظیم ہے جو برکس کے سب سے قریب آتی ہے۔ لیکن یہاں چینی غلبہ تقریباً مکمل ہے۔ایس سی او چین کی کثیر ملکی تنظیم ہے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ کم از کم ایس سی او کا ایک مقصد تو ہے، چاہے ہمیں وہ پسند ہو یا نہ ہو۔ حتیٰ کہ 57 ممالک پر مشتمل او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) جیسی بظاہر کم اثر رکھنے والی تنظیم میں بھی کم از کم ایک چیز مشترک ہے—اسلام۔ البتہ آپ نے اسے اسلامی دنیا کے اندر جاری اتنے سارے بحرانوں اور جنگوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، مثلاً خلیجی عرب ریاستوں اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی وغیرہ۔
برکس کے ارکان میں مشترک کیا ہے؟
کیا برکس کے ارکان میں کوئی مشترک چیز موجود ہے؟ کیا یہ ٹرمپ یا ’’شیطانی مغرب‘‘ کے خلاف مشترکہ محاذ ہے؟ ہرگز نہیں۔پوتن اور ٹرمپ ایک دوسرے کے مداح ہیں۔ شی جن پنگ جلد ہی امریکہ جائیں گے تاکہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں موجود اختلافات کو دور کیا جاسکے۔ وہ ٹرمپ کو اپنی خارجہ پالیسی میں اندرونی معاملات کی طرف مزید توجہ دینے کی حکمتِ عملی جاری رکھنے کی ترغیب بھی دیں گے۔امریکہ پہلے اور آخر میں بھی امریکہ۔ تائیوان کو بھول جائیے
ڑی کے لیے ٹرمپ سب سے بڑی خوشخبری ہیں۔ وہ امریکہ کے اتحادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ ممالک خطرات کی سطح کو کم کرنے کے لیے چین کا رخ کر سکتے ہیں۔اس کے بعد بیجنگ ان سے مراعات حاصل کرے گا۔ دوسرے ممالک، جو کمزور اور چھوٹے ہیں، خاص طور پر گلوبل ساؤتھ کے ممالک، جنہیں اکثر بھارت کی طرح چین کی جانب سے مالی مدد ملتی ہے، پہلے ہی چین کو نیا بالادست ملک سمجھنے لگے ہیں اور اسے ’سلام‘ کر رہے ہیں۔ کم از کم شی جن پنگ آپ کو ٹرمپ کی طرح سب کے سامنے ذلیل تو نہیں کریں گے۔جہاں تک روس کا تعلق ہے، تو یہ ایک بہت بڑا ملک ہے جس کی سرحدیں ڑی کے ملک سے ملتی ہیں۔ اس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں اور پائپ لائن کے ذریعے توانائی کا ایک محفوظ ذریعہ بھی ہے۔
بھارت ایک بالکل مختلف زمرے میں آتا ہے۔ یہاں سرحد کا مسئلہ ہے اور وہاں فوجی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ چین کی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ڑی کو استحکام کی ضرورت ہے۔ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں، بھارت اور چین کے درمیان تجارت یک طرفہ ہے۔ اس وقت ۱۱۲ ارب ڈالر کی تجارت کے ساتھ، چین کے کل تجارتی فاضل کا صرف ۱۰ فیصد سے کچھ زیادہ حصہ بھارت سے حاصل ہوتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی فاضل میں کمی کے باعث ڑی متبادل راستے چاہتے ہیں۔ اور چاہے یہ بات پسند آئے یا نہ آئے، بھارت اس میں شامل ہو چکا ہے۔اب، آبادی سے متعلق مسائل اور ملکی طلب میں زبردست کمی کے باعث، چین کو ان تجارتی فاضل رقوم کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڑی نے بھارت کے ساتھ سرحدی مسئلے پر عارضی وقفہ اختیار کیا ہے۔
1988 ء میں، ڈینگ ڑیاؤ پنگ نے بیجنگ میں راجیو گاندھی سے ’’چونکہ ہماری نسل میں شاید اس سرحدی مسئلے کو حل کرنے کی سمجھ بوجھ نہیں ہے، اس لیے آئیے اسے مستقبل کی ایک زیادہ سمجھدار نسل کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ ڑی کے لیے وہ مستقبل ابھی تک نہیں آیا۔ وہ مزید وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہاں تک کہ چین اور بھارت کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ جائے۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کو بھارت کو متوازن رکھنے کے لیے اپنے ساتھ ملا رکھا ہے۔پوٹن بھی ڑی کی طرح نیٹو کی کمزوری پر خوش ہیں۔ وہ یا تو سمجھتے ہیں کہ انہیں یوکرین کے معاملے پر کوئی معاہدہ حاصل ہو جائے گا اور وہ فتح کا اعلان کر سکیں گے، یا پھر امریکہ کی جانب سے کیف کو دی جانے والی امداد میں کمی اور یورپ کی ہچکچاہٹ کے دوران جنگ جاری رکھیں گے۔ مختصراً، نہ تو ڑی واشنگٹن کے خلاف دنیا کو متحد کر رہے ہیں اور نہ ہی پیوٹن ایسی کسی مہم میں شامل ہو رہے ہیں۔
ڑی کے برعکس، پیوٹن کو بھارت کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم، ان کی پہلی ترجیح بھی ڑی کی ترجیح سے مختلف نہیں ہے: ایک طرفہ تجارتی تعلقات۔ بھارت چین کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں روس سے زیادہ تیل خریدنے کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے روس کا شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ بھارت اب بھی روسی ہتھیاروں کا سب سے بڑا موجودہ اور ممکنہ خریدار ہے، خاص طور پر اگر پابندیاں ہٹا دی جائیں۔ تیل کے علاوہ روس کو بھارت کے ساتھ ۵۰ ارب ڈالر کا تجارتی فاضل بھی حاصل ہے۔تاہم، روس نسبتاً ایک نرم مزاج تجارتی شراکت دار ہے اور ایسی بعض دفاعی ٹیکنالوجیز بھارت کو دینے پر آمادہ ہے جو کوئی اور ملک بھارت کو نہیں دے گا۔ اس کے علاوہ، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ پیوٹن بھارت کو روس یا چین کے برابر اہمیت دیتے ہیں، تو آپ کو دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔یہ تمام عوامل برکس سربراہی اجلاس کے پس منظر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بھارت یہاں سب سے مضبوط پوزیشن رکھنے والا ملک نہیں ہے، چاہے اس کی مہمان نوازی کتنی ہی شاندار کیوں نہ ہو۔ یہ کہنا ایک تلخ حقیقت ہے۔