نفرت کی سیاست اور نفرت کو ہوا دے کر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ، عمران پرتاپ گڑھی کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔16۔ستمبر۔(سیاست نیوز) بشریٰ بانو آئی پی ایس کے تبادلہ پر رکن پارلیمنٹ جناب عمران پرتاپ گڑھی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسلم خاتون آئی پی ایس آفیسر کو ’اسلام علیکم ‘ اور انشاء اللہ کہنے پر جس انداز میں نشانہ بنایا گیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ جن لوگوں نے بشریٰ بانو کو نشانہ بنایا ہے دراصل وہ نفرت کی سیاست اور نفرت کو ہوادیتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ مغربی بنگال حکومت ان کی حوصلہ افزائی کے ذریعہ بیرون ملک اپنی خدمات چھوڑ کر ملک کی خدمت کے لئے واپس ہونے والی خاتون آئی پی ایس عہدیدارکے تبادلہ کے احکام جاری کردیئے ہیں۔ جناب عمران پرتاپ گڑھی نے بتایا کہ بنگال میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد حکومت جس انداز کے فیصلہ کررہی ہے وہ درحقیقت ریاست ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں فرقہ وارانہ ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ رکن راجیہ سبھا نے بشریٰ بانو معاملہ میں سخت الفاظ میں کہا کہ بشریٰ بانو کو درحقیقت مسلمان ہونے کی سزاء دی جار ہی ہے۔ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ملک ان حالات کو دیکھ رہا ہے اور سابق میں بھی کئی عہدیداروں کو عوام سے بہتر انداز میں تال میل اور رابطہ کے لئے انہیں سمجھ میں آنے والی زبان اور بیان کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے لیکن مرکز و ریاست میں موجود ’’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘‘ کا نعرہ لگانے والی حکومت نے ہندستان کی ایک بیٹی کو محض ’’السلام علیکم‘‘ اور انشاء اللہ کہنے کی سزاء دیتے ہوئے اس کے تبادلہ کے احکام جاری کردیئے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت بنگال نے جو تبادلہ کے احکا م جاری کئے ہیں وہ معمول کا تبادلہ نہیں ہے اور اس صورتحال کو ملک دیکھ رہا ہے۔رکن راجیہ سبھا کانگریس نے بتایا کہ اس طرح کے رویہ اور حالات سے عوام میں خوف و دہشت پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ ناکام ثابت ہوگی۔ انہو ںنے بتایا کہ ملک میں جس طرح کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت میں شامل افراد قانون کے مطابق ملک نہیں چلا رہے ہیں بلکہ ’’آن لائن‘‘ کی جانے والی ٹرولنگ کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہوئے کسی کا بھی تبادلہ کر سکتی ہے۔ بشریٰ بانو کے تبادلہ پر ملک بھر میں کئی سرکردہ صحافیوں ‘ سابق آئی اے ایس و آئی پی ایس عہدیداروں کے علاوہ سماجی جہدکاروں کی جانب سے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح کے رویہ کو افسوسناک قرار دیا جانے لگا ہے۔3/m/b