بشیر خان گائیوں کے محافظ بن گئے

   

سرمور: آپ میں سے اکثر لوگوں نے بے سہارا گایوں کو ادھر ادھر بھٹکتے دیکھا ہوگا۔ان کا کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا، وہ بہت مشکل سے گلیوں میں ادھر ادھر بھٹکتی رہتی ہیں اورکوڑا اور کچڑے کے ڈھیر سے کچھ چن کرکھالیتی ہیں۔ تاہم ریاست ہماچل پردیش کے سرمور ضلع میں اس سلسلے میں ایک انوکھا ہی منظر دیکھنے کو ملا ہے۔ جب کہ دو دوست یعنی سچن اوبرائے اور بشیر خان نے گائیوں کے تحفظ کے لیے اپنا سب کچھ لگا دیا ہے۔ سچن اور بشیر مل کرگائیوں کی حفاظت کے لیے جوکام کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جہاں سچن نے اپناگھر اور زمین گروی رکھ کر گوشالا بنا ڈالا تو وہیں ان کے دوست بشیر خان نے اس میں نہ صرف ان کا ساتھ دیا بلکہ ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر بھی چل رہے ہیں۔گذشتہ چھ ماہ سے یہ گوشالا چل رہا ہے اور گذشتہ چھ ماہ سے سچن کے ساتھ بشیر خان گایوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ سچن اور بشیر نے ملک میں منافرت پھیلانے کو جہاں یکجہتی بھائی چارے کا پیغام دے رہے ہیں وہیں وہ گائیوں کی حفاظت کر دیگر سماجی ذمہ داران کو کہہ رہے ہیں کہ گائیوں کی حفاظت کے لیے عملی طور پر آگے آئیں۔ آج سچن اور بیشر کی جوڑی کی ہر جگہ مثالیں دی جا رہی ہیں، جو ہمہ وقت گائیوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ سڑکوں پر در در ٹھوکریں کھانے والی بے سہارا گایوں کو پناہ دینے کا کام حکومت اور انتظامیہ کو کرنا چاہیے تھا۔ تاہم یہ ریاست ہماچل پردیش کے سرمور ضلع کے ایکتا کالونی، پاونٹا کے رہنے والے 33 سالہ سچن اوبرائے اور بشیر خان کر رہے ہیں۔ حالانکہ سچن اوبرائے اسکول کے زمانے سے ہی گائے کے تحفظ کی لڑائی لڑ رہے ہیں لیکن تین سال سے وہ اس لڑائی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ گائے کے تحفظ کے لیے سچن نے اپنا گھر اور زمین گروی رکھ کر بہرل میں پانچ بیگھہ زمین پر گایوں کے پناہ گاہ بنائی ہے۔ اس میں 70 بے سہارا گایوں کو پناہ دی گئی ہے۔ اس وجہ سے وہ مقروض ہوگئے ہیں۔ ان پر50 لاکھ کا قرض ہے۔