بغیر اجازت ٹی آر ایس کے راستہ روکو احتجاج پر ہائیکورٹ برہم

   

وزارت داخلہ نے اجازت نہ دینے کا اعتراف کیا
حیدرآباد۔ 6 اپریل (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے چہارشنبہ اور جمعرات کو ریاست گیر راستہ روکو احتجاج پر تلنگانہ ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کی ہے۔ عدالت نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا راستہ روکو احتجاج کے لئے باقاعدہ اجازت حاصل کی گئی ہے اور پولیس کی جانب سے اجازت دی گئی تھی۔ کاکتیہ لاری اسوسی ایشن نے ایک درخواست داخل کرتے ہوئے شکایت کی کہ اجازت کے بغیر ٹی آر ایس کے راستہ روکو احتجاج کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ قومی شاہراہوں پر احتجاج کے سبب ہر قسم کی گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ ہائی کورٹ نے حکومت سے سوال کیا کہ آیا احتجاج کے لئے اجازت دی گئی یا نہیں؟ وزارت داخلہ کے وکیل نے بتایا کہ احتجاج کے لئے کوئی اجازت نہیں دی گئی اور محکمہ کے علم میں جو معاملات آئیں گے ان پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اضلاع میں ٹی آر ایس کے راستہ روکو احتجاج کے بارے میں وزارت داخلہ کا موقف نوٹ کرنے کے بعد عدالت نے حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ عوامی مقامات پر احتجاج کے لئے اجازت کا حصول ضروری ہے۔ عدالت نے اجازت کے بغیر احتجاج کو روکنے کی ہدایت دی۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 2 ہفتے بعد ہوگی۔ واضح رہے کہ کسانوں سے دھان کی خریداری کے لئے مرکز پر دباؤ بنانے کے لئے ٹی آر ایس کی جانب سے قومی شاہراہوں پر احتجاج کیا گیا جس کے نتیجہ میں مختلف راستوںکے ٹرانسپورٹ سسٹم پر اثر پڑا اور ٹریفک جام ہوئی۔ ر