مفت سہولت کے باوجود ہر گھر سے 100 روپئے تک اینٹھے جا رہے ہیں ‘ تحقیقات ضروری
حیدرآباد۔ شہر سے کچرے کی نکاسی اور گھر گھر کچرے کی وصولی کسی اسکام سے کم نہیں ہے کیونکہ جی ایچ ایم سی نے کچرے کی وصولی کیلئے جو آٹو فراہم کئے گئے ہیں وہ ہر گھر سے کچرے کی وصولی کیلئے 25تا100 روپئے ماہانہ وصول کئے جارہے ہیں اور جن گھروں سے یہ رقم ادا نہیں کی جاتی ان سے کچرا اٹھانے سے انکار کردیا جاتا ہے جس کے سبب یہ کچرا کنڈی پر کچہرا پھینکا جاتا ہے اور اب بلدیہ حیدرآباد کی جانب سے کچرے کی نکاسی کے اقدامات کو اس قدر سست کردیا گیا کہ رہائشی علاقو ںمیں اگر کوئی کچرا پھینکتا ہے تو علاقہ کے تمام مکینوں کو بدبو و تعفن کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جی ایچ ایم سی حدود میں نم کچرے اور سوکھے کچرے کو علحدہ کرنے حکومت اور جی ایچ ایم سی کی جانب سے تمام مکینوں کو علحدہ بکٹ فراہم کی گئی تھی اور اعلان کیا گیا تھا کہ جی ایچ ایم سی حدود میں کچرے کی وصولی کے آٹو گھر گھر سے کچرا وصول کریں گے اور اس کیلئے مکینوں کو کوئی رقم ادا کرنی نہیں ہوگی لیکن آٹومیں موجود بلدی عملہ چائے پانی کے نام پر رقومات کی وصولی کا سلسلہ شروع کرچکا ہے جس پر عہدیداروں کی جانب سے اعتراض کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ مکینوںکو صفائی رکھنے والوں سے تعاون کرتے ہوئے 25تا50روپئے ادا کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے لیکن بتدریج یہ ہمدردی کچرا وصولی کی فیس میں تبدیل ہوگئی اور ان گھروں سے کچرا وصول کرنے سے انکار کیا جانے لگا جو یہ رقم ادا نہیں کر رہے ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق شہر میں روزانہ کچرے کی وصولی کو یقینی بنانا آٹو ٹرالی کی ذمہ داری ہے لیکن بیشتر علاقوں میں ایک دن کے وقفہ سے یہ آٹو ٹرالی پہنچتی ہیں اس اعتبار سے یہ لوگ مہینہ میں 15یوم خدمات انجام دیتے ہیں اور ان کیلئے انہیں جی ایچ ایم سی سے تنخواہ ملتی ہے ۔ تنخواہ کے باوجود شہریوں سے پیسے وصول کرنا رشوت ہے اور اس رشوت پر اعتراض نہ کرنا ایسا ہی ہے کہ چھوٹی رقم زائد مقدار میں وصول کی جائے تو وہ کوئی جرم نہیں ہے ۔بلدیہ سے اس اسکام کی تحقیقات کے بجائے ان کی حوصولہ افزائی کے نتیجہ میں آٹو ٹرالی والے اور کنٹراکٹرس من مانی کر رہے ہیں اور شہری مجبوری میں رقومات ادا کرنے لگے ہیں۔