اقتدار کی ہوس … ممتاکے بعد ادھو ٹھاکرے نشانہ
آر ایس ایس پر شکنجہ … پریانک کھرگے کی جرأت مندی
رشیدالدین
حرص اور ہوس چاہے دولت کی ہو یا اقتدار کی ، اس کی منزل اور خاتمہ نہیں رہتا۔ جس قدر حاصل ہو، اتنی اور حرص بڑھتی جاتی ہے۔ اسی لئے بزرگوں کا کہنا ہے کہ حرص ، لالچ اور ہوس کو قبر کی مٹی یا چتا کی آگ ہی پورا کرتی ہے۔ ملک میں اقتدار اور حکمرانی کا چسکا بی جے پی کو کچھ اس طرح لگ چکا ہے کہ اسے محرومی کا احساس بھی برداشت نہیں۔ اقتدار کی برقراری کیلئے کچھ بھی کرنے اور کسی بھی حد تک جانے تیار ہیں۔ مودی۔امیت شاہ کو اقتدار کی ہوس نے اندھا کردیا ہے اور وہ اپنے مقابل اور مخالف کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ مخالفین کو کمزور کرنے یا ان کا صفایا کرنا بنیادی مقصد بن چکا ہے ۔ 2014 میں مرکز میں اقتدار کے ساتھ ہی اپوزیشن زیر قیادت ریاستوں کی حکومتوں کو غیر مستحکم کیا گیا اور پارٹیوں میں پھوٹ اور انحراف کی حوصلہ افزائی کے ذریعہ کئی ریاستوں میں اقتدار حاصل کیا گیا۔ انحراف کے نتیجہ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بی جے پی کی عددی طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔ مودی ۔امیت شاہ کی نظر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بی جے پی کو دو تہائی اکثریت کے حصول پر ٹکی ہے۔ توڑ جوڑ کی سیاست جنون کی حد تک بڑھ چکی ہے اور مخالفین کے بعد حلیف پارٹیاں بھی نشانہ بن سکتی ہیں کیونکہ سیاست میں مستقل دوست اور دشمن نہیں ہوتا۔ الیکشن کمیشن پر کنٹرول کے بعد ملک میں بی جے پی کی شکست کا خطرہ ٹل چکا ہے لیکن بی جے پی پارلیمنٹ میں من مانی قوانین کو منظور کرنے کیلئے دو تہائی اکثریت کی خواہاں ہے۔ ممتا بنرجی اور ایم کے اسٹالن کی شکست کے بعد بی جے پی نے چین کی سانس لی ہے لیکن راہول گاندھی کا خوف بدستور قائم ہے۔ مغربی بنگال کے نتائج کے فوری بعد ترنمول کانگریس میں پھوٹ پیدا کی گئی اور 28 میں 20 ارکان پارلیمنٹ اور 60 ارکان اسمبلی نے بغاوت کرتے ہوئے این ڈی اے کے ساتھ کام کرنے کا اعلان کیا۔ ترنمول کی بغاوت ابھی تازہ تھی کہ مہاراشٹرا میں ادھو ٹھاکرے کے 6 ارکان پارلیمنٹ کو انحراف کی ترغیب دی گئی۔ این سی پی اور شیوسینا میں پھوٹ سے دل نہیں بھرا اور ادھو ٹھاکرے کے باقی ارکان پارلیمنٹ کو توڑنے کا نقشہ تیار ہے۔ شیوسینا ادھو ٹھاکرے کے بعد اترپردیش میں سماج وادی پارٹی کی باری ہے۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات سے قبل اکھلیش یادو کو کمزور کرنے کی سازش ہے تاکہ بی جے پی کی اقتدار میں واپسی میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ سماج وادی پارٹی میں پھوٹ میں کامیابی ملتی ہے تو اگلی باری کنگ میکر کے دعویدار چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کی ہوسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی مدد کے باوجود 2024 عام انتخابات میں عوام میں بی جے پی کو 240 نشستوں تک محدود کردیا، حالانکہ بی جے پی نے ’’اب کی بار 400 پار‘‘ کا نعرہ لگایا تھا۔ 400 توکجا 240 نشستوں کے ساتھ عوام نے سادہ اکثریت بھی نہیں دی اور بیساکھیوں کے سہارے حکومت تشکیل دینی پڑی۔ رائے دہندوں کے بدلتے رجحان سے گھبراکر مودی۔امیت شاہ نے توڑ جوڑ کی سیاست کو اختیار کرلیا۔ ترنمول کانگریس میں پھوٹ کی اسکرپٹ 2023 میں تیار کرلی گئی تھی ۔ ووٹ چوری سے کامیابی کے بعد اس پر عمل درآمد کیا گیا۔ آزادی کے 75 برسوں میں ملک نے پہلی مرتبہ دستور ۔ قانون اور جمہوریت کی دھجیاں اڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ جس ڈرامائی اور تیز رفتاری کے ساتھ ارکان اسمبلی اور لوک سبھا ارکان میں نہ صرف پھوٹ ہوئی بلکہ باغی رکن کو مغربی بنگال کے اسپیکر نے قائد اپوزیشن تسلیم کرلیا۔ 20 باغی ارکان کو حقیقی ترنمول کانگریس قرار دے کر انتخابی نشان ممتا بنرجی سے چھین لیا جائے گا ۔ ممتا بنرجی کے 20 ارکان پارلیمنٹ کی بی جے پی میں شمولیت کی راہ میں مسلم دشمنی کی پالیسی رکاوٹ بن گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ آر ایس ایس نے ترنمول کے 3 مسلم ارکان پارلیمنٹ کو بی جے پی میں شامل کرنے کی مخالفت کی، لہذا امیت شاہ نے تیار شدہ سکنڈ آپشن کے تحت نیشنل سٹیزن پارٹی آف انڈیا (NCPI) میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پارٹی کا نام شائد ہی کسی نے پہلے سنا ہو۔ تریپورہ کی اس پارٹی کا فروری 2023 میں مغربی بنگال میں رجسٹریشن کیا گیا۔ جس پارٹی نے آج تک لوک سبھا الیکشن نہیں لڑا ، اسے مفت میں 20 ارکان پارلیمنٹ مل گئے ۔ پارٹی نے تریپورہ میں اسمبلی کی دو نشستوں پر مقابلہ کیا تھا اور دونوں جگہ ضمانت ضبط ہوئی اور محض 826 ووٹ حاصل ہوئے جو نوٹا سے بھی کم تھے۔ انضمام کے اس کھیل کے ذریعہ امیت شاہ نے ایک تیرسے تین شکار کئے ہیں۔ ممتا بنرجی پر نشانہ تو پورا ہوا ، ساتھ ہی خود کو کنگ میکر کا دعویٰ کرنے والے چندرا بابو نائیڈو کا قد بھی این ڈی اے میں کم ہوگیا۔ بابو اور نتیش کو این ڈی اے کی بیساکھیاں کہا جاتا ہے اور تلگو دیشم 16 اور جنتا دل یونائٹیڈ 12 نشستوں کے ساتھ این ڈی اے کی بڑی پارٹیاں تھیں لیکن اب این سی پی آئی 20 ارکان کے ساتھ این ڈی اے میں بی جے پی کے بعد سب سے بڑی پارٹی بن چکی ہے۔ اس کھیل میں بابو اور نتیش کمار کو سیاسی طور پر دھکا لگا اور یہ تبدیلی چندرا بابو نائیڈو کیلئے آئی اوپنر سے کم نہیں ہے۔ جس گمنام پارٹی نے لوک سبھا اور اسمبلی توکجا بلدیہ اور پنچایت میں مغربی بنگال میں حصہ نہیں لیا ، اسے20 ارکان پارلیمنٹ کا تحفہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ یوکنڈو نامی شخص این سی پی آئی کا بانی ہے اور ان کی شریک حیات شیولی کنڈو پارٹی صدر ہیں جو راتوں رات 20 ارکان پارلیمنٹ کے صدر بن گئے ۔ منصوبہ کے مطابق جولائی میں پارلیمنٹ سیشن کے دوران باغیوں کو حقیقی ٹی ایم سی تسلیم کرتے ہوئے الیکشن کمیشن انتخابی نشان حوالے کردے گا ۔ شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کے ساتھ یہی کچھ کیا گیا تھا اور پارٹی اور انتخابی نشانی دونوں چھین لئے گئے۔
بی جے پی کی مدر آرگنائزیشن آر ایس ایس سے سوال کرنے کے بارے میں بہت کم قائدین نے ہمت جٹائی ہے۔ آر ایس ایس کے قیام کو 100 سال مکمل ہوگئے لیکن آج تک کسی مرکزی یا ریاستی حکومت نے آر ایس ایس کے رجسٹریشن اور فنڈس کے حسابات پوچھنے کی ہمت نہیں کی۔ کانگریس اگرچہ آر ایس ایس کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے اور راہول گاندھی نے آر ایس ایس کو جب کبھی نشانہ بنایا، ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ۔ مرکز میں گزشتہ 12 برسوں میں مودی حکومت کے نتیجہ میں آر ایس ایس قیادت یہ گمان بھی نہیں کرسکتی کہ کوئی اس سے تفصیلات طلب کرے گا۔ کرناٹک میں چیف منسٹر کے طور پر ڈی کے شیو کمار کے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پریانک کھرگے کو ہوم منسٹر بنایا گیا جو کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے فرزند ہیں۔ پریانک کھرگے ایک سیاستداں نہیں بلکہ تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے بھی اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ پریانک کھرگے نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تنظیم کے رجسٹریشن اور فنڈس کے جمع اور خرچ کا حساب پیش کرنے کی خواہش کی۔ پریانک کھرگے کا مکتوب آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں پر کسی بم سے کم نہیں تھا۔ پریانک کھرگے کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں کوئی بھی ادارہ یا تنظیم کسی نہ کسی ٹرسٹ ، سوسائٹی یا کمپنی کے تحت رجسٹرڈ کرنا لازمی ہے۔ آر ایس ایس نے آج تک اپنا رجسٹریشن نہیں کیا ، جبکہ ملک میں ہزاروں شاکھائیں موجود ہیں۔ کسی بھی رجسٹریشن کے بغیر آر ایس ایس کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کس طرح اجازت دی جاسکتی ہے ۔ موہن بھاگوت نے جواب دیا کہ آر ایس ایس کو کسی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں اور ہندو دھرم کا رجسٹریشن نہیں ہوتا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آر ایس ایس کیا ہندو دھرم کی ٹھیکیدار اور قانون سے بالاتر ہے ؟ ملک میں جب چھوٹے کاروبار کیلئے رجسٹریشن اور لائسنس کی ضرورت پڑتی ہے تو پھر آر ایس ایس کا رجسٹریشن کیوں نہیں کیا جاتا۔ پریانک کھرگے کے موقف نے مودی اور امیت شاہ کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے ۔ آج تک کسی نے آر ایس ایس سے رجسٹریشن کے بارے میں سوال کرنے کی ہمت نہیں کی تھی اور آر ایس ایس کو ملک میں مسلم تنظیموں اور دینی مدارس کے وجود پر اعتراض ہے۔ مسلمانوں کی مذہبی تنظیموں کو وقتاً فوقتاً بیرونی فنڈس کے نام پر ہراساں کیا جاتا ہے اور ان سے فنڈس کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہے ۔ دوسری طرف بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں دینی مدارس کے رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مسلمانوں کے ادارے رجسٹریشن کے بغیر چلائے نہیں جاسکتے تو پھر آر ایس ایس کو کھلی چھوٹ کیوں اور کس نے دی ہے؟ دوسری طرف ساورکر کے مسئلہ پر بھی بی جے پی کو عدالت میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ ساورکر کے پڑ پوتے ستکی ساورکر نے عدالت میں بیان دیا کہ ان کے دادا نے 10 مرتبہ معافی نامہ انگریزوں کو روانہ کیا تھا۔ راہول گاندھی نے جب یہی بات کہی تو ان پر مقدمہ کیا گیا۔ ساورکر کو بی جے پی مہاتما گاندھی کے برابر کھڑا کرنے کی کوشش کر تی رہی لیکن دستاویزات کے حوالے سے پڑپوتے نے ساورکر کی اصلیت کو دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ اب بی جے پی کے پاس ساورکر سے کنارہ کشی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ اقتدار کو مستقل تصور کرنے والوں کے لئے منور رانا نے کیا خوب کہا ہے ؎
بلندی دیر تک کس شخص کے حصہ میں رہتی ہے
بہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرہ میں رہتی ہے