بلڈرس اور ڈیولپرس کی سب رجسٹراروں سے ملی بھگت

   

غیر منظورہ لے آؤٹس میں پلاٹس کا رجسٹریشن
حیدرآباد۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) ایک پریشان کن پیشرفت میں بلڈرز اور ڈیولپرس سب رجسٹراروں کے ساتھ ملی بھگت سے مبینہ طور پر قواعد وضوابط کو نظرانداز کرنے اور غیر منظور شدہ لے آؤٹس میں پلاٹوں کو رجسٹر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کے نتیجہ میں رجسٹریشن اور اسٹیمپس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ایک بڑی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ایسا ہی ایک فراڈ اس وقت سامنے آیا جب ضلع کھمم کی وائرا میونسپلٹی میں ایک ہی دن میں غیر منظور شدہ لے آؤٹس میں 99 پلاٹس رجسٹر کئے گئے، یہاں ریئل اسٹیٹ میں تیزی سے سینکڑوں غیر مجاز لے آؤٹس کی تخلیق ہوئی ہے۔ درحقیقت تلنگانہ میں چار سال قبل غیر مجاز لے آؤٹس میں پلاٹوں کے رجسٹریشن پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ یہ پابندی جو 26 اگست 2020 کو نافذ ہوئی تھی۔ جو ایسے لے آؤٹس میں نئے پلاٹوں کی رجسٹریشن پر پابندی عائد کرتی ہے جن کی منظوری نہیں ہے۔ لے آؤٹ ریگولرائزیشن اسکیم (LRS) کے تحت ان پلاٹوں کو باقاعدہ منظوری حاصل کرنے کے بعد ہی رجسٹر کیا جاسکتا ہے۔ تاہم کچھ ڈیولپرس اور سب رجسٹراروں نے اس پابندی کو روکنے کے طریقے ڈھونڈ لئے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یادگیری گٹہ کے سب رجسٹرار گوپی کو حال ہی میں غیر منظور شدہ لے آؤٹ میں 150 کھلے پلاٹوں کے رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنے کے الزام میں معطل کردیا گیا تھا۔ ذرائع سے معلوم ہوا کہ منچریال، ورنگل، سدی پیٹ اور سنگاریڈی جیسے اضلاع میں بھی ایسے ہی واقعات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پلاٹوں کے غیر مجاز رجسٹریشن سب رجسٹرار دفاتر کے لئے مالیاتی سہولت بن چکی ہے۔ ڈیولپرس فروخت مکمل کرنے کے خواہشمند ان پلاٹوں کی رجسٹریشن کے لئے ان حکام سے رجوع ہوئے ہیں۔ اکثر فی پلاٹ 25 ہزار سے 40 ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے اندازہ لگایا کہ غیر مجاز ترتیب میں تقریباً 60 فیصد پلاٹ جنہیں مقامی گرام پنچایتوں نے منظور کیا تھا دھوکہ دہی سے رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ یہ مسئلہ متعلقہ قانون سازی میں واضح طریقوں اور رہنما اصولوں کی کمی سے پیدا ہوا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق میونسپل یا پنچایت راج ایکٹ کے تحت نئے پلاٹ یا پلاٹوں کی ذیلی تقسیم کا کوئی واضح طریقہ نہیں ہے۔ 2020 کے حکومتی احکامات غیر مجاز لے آوٹ میں پلاٹوں کی رجسٹریشن کے لئے کٹ آف کی تاریخ بتانے میں ناکام رہے جس سے الجھن اور قانونی خامیاں پیدا ہوئیں۔ نتیجتاً ریونیو اداروں میں محکمہ نے حال ہی میں میونسپل اور پنچایت راج محکمہ کو خط لکھ کر رجسٹریشن پر سے پابندی ہٹانے کی درخواست کی ہے۔ یہ دلیل دیتے ہوئے کہ واضح قوانین کی عدم موجودگی نے دھوکہ بازوں کو نظام کا استحصال کرنے کی اجازت دی۔ حکومت پر یہ بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ لے آؤٹس میں پلاٹوں کی رجسٹریشن کی اجازت دی جائے ۔ ش