حیدرآباد۔24۔ ستمبر (سیاست نیوز) سابق رکن پارلیمنٹ رویندر نائک نے بنجارہ طبقہ اور ان کے ذیلی طبقات کی ترقی کے لئے قومی سطح پر ترقیاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں بنجارہ طبقہ کے لئے علحدہ یونیورسٹی قائم کی جانی چاہئے ۔ تلنگانہ حکومت نے طبقاتی سروے کے ذریعہ ملک کے لئے مثال قائم کی ہے۔ ٹاملناڈو ، گوا ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا ، گجرات ، راجستھان اور چھتیس گڑھ ریاستوں میں بنجارہ طبقہ کو ایس ٹی زمرہ میں شامل کرنے کے اقدامات کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں بنجارہ طبقہ کی لمباڑی زبان کو دستور کے 8 ویں شیڈول میں شامل کرنے کیلئے اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور کی گئی اور اس قرارداد کو پارلیمنٹ میں بھی منظور کیا جائے۔ انہوں نے قانون ساز اسمبلی اور پارلیمنٹ میں بنجارہ طبقہ کو موثر نمائندگی کا مطالبہ کیا۔ تلنگانہ کے بنجارہ تانڈوں کو گرام پنچایت کے طور پر ترقی دینے حکومت اقدامات کر رہی ہے ۔ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی اس طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ رویندر نائک نے قومی اور ریاستی سطح پر بنجارہ طبقہ کی ترقی کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بنجارہ طبقہ کو درپیش مسائل پر تفصیلی نوٹ جاری کیا۔1/k