عوام کی سہولت کیلئے اتوار کو تمام بینک کھلے رہیں گے ‘حکومت اور آر بی آئی کا فیصلہ
نئی دہلی ۔23؍ستمبر ( ایجنسیز ) ملک بھر میں28؍ستمبر سے بینک ملازمین کی مجوزہ 3 روزہ ملک گیر ہڑتال ہورہی ہے ۔ اس سے پہلے عام شہریوں کی سہولت کیلئے وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ اتوار27 ستمبر کو ملک کے تمام پبلک سیکٹر بینک اور ریجنل رورل بینک عام دنوں کی طرح کھلے رہیں گے۔ بینک ملازمین کی مشترکہ تنظیم یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کے ذریعہ 28 سے 30 ستمبر تک 3 روزہ ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔ ویک اینڈ کی چھٹیوں اور آئندہ ہڑتال کی وجہ سے بینکنگ خدمات طویل عرصے تک ٹھپ نہ رہیں، اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا نے اتوار کو بینک کی شاخیں کھلی رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔واضح رہے کہ 26 اور 27 ستمبر کو ویک اینڈ کی چھٹیاں ہیں جس کے فوراً بعد 28 سے 30 ستمبر تک بینک یونینوں کی 3 روزہ مجوزہ ہڑتال ہے۔ اگر اتوار کو بھی بینک بند رہتے تو عام لوگوں کی بینکنگ خدمات مسلسل 5 دنوں تک متاثر ہو سکتی تھیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بینک صارفین کی سہولت اس کی اولین ترجیح ہے۔ تنظیم یو ایف بی یو نے 28 ستمبر سے کام روک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ان کے اہم مطالبات میں ہفتے میں 5 دن کام کا نظام نافذ کرنا بنیادی مطالبہ ہے۔ تمام پنشنرز کی پنشن کی رقم میں بہتری اور اپ ڈیشن‘ پنشنرز کیلئے مہنگائی الاؤنس کا یکساں فارمولہ نافذ کرنا۔ نیشنل پنشن سسٹم (این پی ایس) کے تحت آنے والے ملازمین کو پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) اختیار کرنے کا آپشن دینا شامل ہیں۔ ستمبر میں کام کی اہمیت کے پیش نظرحکومت اور بینک انتظامیہ نے یونینوں سے ہڑتال ملتوی کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایس آئی آرسے متعلق تمام فیصلے اتفاق رائے
نئی دہلی، 23 ستمبر (یو این آئی) الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق کمیشن کے تمام فیصلے پورے تعاون اور اتفاق رائے سے کیئے گئے ہیں۔کمیشن کے ایک سینئر اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یو این آئی سے کہاکہ الیکشن کمیشن کے تمام فیصلے ، جن میں ‘ایس آئی آر’ کے فیصلے بھی شامل ہیں، اتفاق رائے سے اور دونوں الیکشن کمشنروں اور چیف الیکشن کمشنر کی منظوری سے کیئے گئے ہیں۔
” اہلکار نے میڈیا کے کچھ حلقوں میں شائع ہونے والی ایسی رپورٹوں کو بے بنیاد قرار دیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ایس آئی آر کے بارے میں کئی ایسے فیصلے نافذ کیے جن میں کمیشن کے دیگر دو اراکین کی رضامندی نہیں تھی۔