مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے نتائج اور بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد پارٹی نے دعوی کیا تھا کہ ریاست میں بدلاؤ کی سیاست ہوگی بدلے کی سیاست نہیں ہوگی ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ اس اعلان کو پارٹی کارکنوں نے الٹا لے لیا ہے اور کسی بدلاؤ کی سیاست نے کا تو ابھی آغاز نہیں ہوا ہے لیکن بدلے کی سیاست ضرور شدت اختیار کرنے لگی ہے ۔ گذشتہ دو دنوں میں دو ارکان پارلیمنٹ پر خطرناک حملے کئے گئے ہیں ۔ انہیں زخمی کیا گیا ہے اور یہ دونوں ہی ارکان پارلیمنٹ اپوزیشن ترنمول کانگریس سے تعلق رکھتے ہیں۔ بی جے پی کی جانب سے حالانکہ یہ تردید کی جا رہی ہے کہ ان حملوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ عوام کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کارکنوں کی جانب سے ہی ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی پر حملہ کیا گیا تھا اور پھر آج کلیان بنرجی کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ابھیشیک بنرجی پارٹی کے ایک کارکن کے گھر پرسہ دینے گئے تھے جو انتخابات کے بعد تشدد میں جان گنوا بیٹھا تھا ۔ وہاں ان پر منظم انداز میں حملے کئے گئے ۔ ان کے خلاف نعرہ بازی کی گئی اور انہیں زد و کوب کا نشانہ بنایا گیا ۔ اس وقت پولیس بالکل خاموش تماشائی دکھائی دے رہی تھی اور حفاظتی عملہ بھی بے بس ہو کر رہ گیا تھا ۔ جس طرح سے یہ حملہ کیا گیا اس سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منظم منصوبے کے تحت کیا گیا تھا اور بنگال میں اب پوری طرح سے بدلے کی سیاست شروع ہوگئی ہے ۔ بی جے پی کو ریاست میں اقتدار سنبھالے ہوئے محض تین ہفتے ہوئے ہیں اور سیاسی انتقام کی کارروائیوں کو پوری شدت کے ساتھ شروع کردیا گیا ہے ۔ ابھیشیک بنرجی پر حملے کے دوسرے ہی دن آج ایک اور رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی کو حملے کا نشانہ بنایا گیا اور ان کو بھی ہجوم کی جانب سے زد و کوب کیا گیا ہے ۔ اس حملے کے نتیجہ میں ان کے سر پر زخم آئے ہیں ۔ یہ دونوں ہی واقعات اس بات کی سمت اشارہ کرتے ہیں کہ ریاست میں بدلے کی سیاست شروع ہوگئی ہے اور بدلاؤ کی سیاست کا جو دعوی کیا گیا تھا وہ محض عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش تھی ۔
ترنمول کانگریس کی جانب سے مسلسل الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ اس کے دفاتر کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ کچھ دفاتر میں آگ لگادی گئی ہے اور کارکنوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس کی جانب سے سکیوریٹی کے انتظامات نہیں کئے گئے بلکہ یہ موقع فراہم کیا گیا کہ ان قائدین پر حملے کئے جائیں۔ جس طرح کا ماحول محض تین ہفتوں میں بنگال میں پیدا کردیا گیا ہے وہ انتہائی شرمناک اور افسوسناک ہے ۔ جمہوریت میں کسی جماعت کو انتخابات میں کامیابی ملتی ہے اور دوسری جماعتوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ یہ سب کچھ عارضی عمل ہے اور یہ سلسلہ ہر انتخاب میںچلتا رہتا ہے ۔ کبھی کسی کو جیت تو کبھی ہار کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کے باوجود اس طرح کے حملے کرنا انتہائی افسوسناک اور شرمناک حرکت ہے ۔ یہ جمہوری عمل کو داغدار کرنے اور آمرانہ طرز عمل کی شروعات کرنے کا اشارہ ہے ۔ بی جے پی نے ریاست کے عوام کو بہتر حالات اور بہتر زندگی فراہم کرنے کے وعدے کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا تھا اور ان وعدوں کی تکمیل پر پارٹی اورحکومت کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کی بجائے بدلے کی سیاست شروع کردی گئی ہے ۔ ترنمول کے دو ارکان پارلیمنٹ کو دو دن میں نشانہ بنایا گیا اور انہیںزخمی کردیا گیا ۔ اس سے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیںرہ جاتا کہ عام کارکنوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے ۔ پارٹی کے دفاتر میں توڑ پھوڑ اور کچھ دفاتر میں آگ لگانے جیسے واقعات بھی سارے ملک کے سامنے آگئے ہیں۔
بنگال کی انتخابی سیاست ویسے بھی تشدد کا شکار ہی رہی ہے ۔ یکا دوکا واقعات یہاں عام بات ہوا کرتے تھے لیکن اب منظم طریقہ سے ارکان پارلیمنٹ پر حملے کرتے ہوئے ماحول کو بگاڑنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ ریاستی حکومت اور پولیس مشنری کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے ۔ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قائدین اور ارکان پارلیمنٹ کی حفاظت بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ محض ہجومی تشدد کا نام دیتے ہوئے حکومت یا انتظامیہ اپنی ذمہ داری سے بری نہیںہوسکتا ۔ اس معاملے میں بی جے پی کی مرکزی قیادت کو بھی مداخلت کرنے اور حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔