بنگلہ دیشیوں اور دیگر بیرونی افراد کیخلاف کارروائی کا انتباہ

   

چھتیس گڑھ کے ڈپٹی چیف منسٹر وجئے شرما کا بیان

رائے پور، 11 مئی (یو این آئی) چھتیس گڑھ حکومت ریاست میں غیر قانونی طور پر رہنے والے بنگلہ دیشیوں اور دیگر بیرونی لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے جا رہی ہے ۔ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ وجے شرما، جن کے پاس محکمہ داخلہ کا چارج بھی ہے ، نے کہا ہے کہ جو لوگ ریاست میں درست دستاویزات کے بغیر رہ رہے ہیں، وہ سامنے آئیں اور وضاحت دیں، ورنہ انہیں ریاست چھوڑنا پڑے گا۔ شرما نے کہا کہ اس کے لیے حکومت نے ہر ضلع میں اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) بنانے کا فیصلہ کیا ہے ، جو ان غیر قانونی شہریوں کی شناخت کرکے ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔ شرما نے کہا کہ یہ مہم قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے ضروری ہے ۔ یہ لوگ نہ صرف قانون شکنی کرتے ہیں بلکہ معاشرے کی حفاظت کے لیے بھی خطرہ بنتے ہیں۔ حکومت نے پولیس سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے غیر قانونی دستاویزات کی بنیاد پر شناخت بنائی ہے اور انہیں ریاست میں لانے والے ٹھیکیداروں اور تاجروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ راشن کارڈ، آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی جیسے دستاویزات کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ہیڈ کوارٹر نے تمام اضلاع کو ہدایات بھیجی ہیں کہ وہ ان بیرونی افراد کی شناخت کے لیے خصوصی مہم چلائیں اور معلومات ہیڈ کوارٹر کو بھیجیں۔ حکومت پاکستان سے آنے والے ہندو شہریوں پر نرم رویہ اپنا سکتی ہے ۔ شرما نے کہا کہ جو لوگ مذہب کی بنیاد پر ظلم و ستم کا شکار ہو کر پاکستان سے آئے ہیں انہیں مرکزی حکومت کی ہدایات کے مطابق راحت دی جائے گی۔ رائے پور سمیت ریاست میں اس وقت تقریباً 2000 پاکستانی شہری رہ رہے ہیں جن میں سے کئی کو شہریت بھی مل چکی ہے ۔