بنگلہ دیش طلبہ تحریک کا سیاسی جماعت بنانے کا منصوبہ

   

ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو حکومت سے بے دخل کرنے والے طلبہ مظاہرین نے فوری انتخابات کے انعقاد کا ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بنگلہ دیش میں طلبہ کی تحریک کو جنریشن زی کے انقلاب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اب تحریک کے رہنما ملک میں اصلاحات کے لیے اپنی سیاسی جماعت بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ طلبہ تحریک کے دو مرکزی رہنما ناہد اسلام اور آصف محمود عبوری کابینہ میں اہم پوزیشن پر ہیں۔ عبوری کابینہ کے سربراہ کے لیے ڈاکٹر محمد یونس کا نام بھی طلبہ نے ہی دیا تھا۔ طالب علم قائد محفوظ عالم کہتے ہیں کہ طلبہ تحریک کے رہنما ٹو پارٹی سسٹم کے خاتمہ کے لیے سیاسی جماعت کے قیام پر مشاورت کر رہے ہیں۔ محفوظ عالم قانون کے طالب علم ہیں اور وہ حکومت اور سماجی گروپس کے درمیان رابطہ قائم کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ایک کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی کے دروازے پر کھڑے ہو کر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ طلبہ تحریک کے رہنما کوئی بھی سیاسی پلیٹ فارم بنانے سے پہلے عام ووٹرز سے رائے لینا چاہتے ہیں۔