دن میں چاق و چوبند رہنے کے لیے نشہ آور اشیاء کے استعمال سے دماغی صحت متاثر
حیدرآباد۔23۔ستمبر۔(سیاست نیوز) اگرآپ نوجوان بچوں کے والدین و سرپرست ہیں اور آپ کے بچے رات کے اوقات میں دیر تک جاگتے رہتے ہیں تو آپ کو چوکنا ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہی راتوں کو جاگنے کی عادت ان کی صحت کے ساتھ دماغی صحت کو بھی تیزی سے متاثر کرنے لگی ہیں اور وہ اپنی رات کو جاگنے کی عادت کے سبب نشہ آور اشیاء کے استعمال کے بھی عادی ہونے لگے ہیں۔ماہرین نفسیات کے مطابق رات کے اوقات میں دیر تک جاگنے کے بعد دن میں خود کو چاق و چوبند رکھنے کیلئے جن اشیاء کا نوجوان استعمال کر رہے ہیں وہ انہیں منشیات کے قریب لیجانے کا سبب بن رہی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ نوجوانوں میں منشیات کے فروغ کی بنیادی وجہ رات کو دیر تک جاگنا بننے لگی ہے۔ رات کے اوقات میں دیر تک جاگنے کے بعد دن میں بھی خود کو مستعد و چوکس رکھنے کیلئے نوجوان تھکان کو دور کرنے والی اشیاء بالخصوص ایسے ڈرنکس کا استعمال کرنے لگے ہیں جو کہ ان میں عارضی قوت پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اوراگر رات کو جاگنے کی عادت کے ساتھ خود کو دن میں چوکس رکھنے کے لئے استعمال کی جانے والی اشیاء کا استعمال بڑھ جاتا ہے تو ایسی صورت میں نوجوانوں کی بڑی تعداد منشیات کے استعمال کی سمت راغب ہورہی ہے اور یہ معاملہ انتہائی خطرناک نوعیت اختیار کرنے لگا ہے۔دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں کئی نوجوان جو کہ رات کو جاگنے کی عادت کا شکار ہیں وہ دن میں اپنے معمولات کے مطابق زندگی گذارنے کی کوشش کے دوران ایسی ادویات کا استعمال کرنے لگے ہیں جو کہ تھکن کا احساس ہونے نہیں دیتی اور تکھاوٹ کو دور کرنے کے لئے استعمال کی جانے والی ان ادویات واشیاء کے بعد نوجوانوں کو منشیات کے استعمال کے ذریعہ زندگی کے معمولات کو برقرار رکھنے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہتا اسی لئے وہ منشیات کا استعمال شروع کررہے ہیں اسی لئے رات کو جاگنے کی بنیادی خرابی کو دور کرنے اور عادات و اطوار میں تبدیلی لاتے ہوئے نوجوانوں کو منشیات کے قریب ہونے سے روکا جاسکتا ہے ۔منشیات کے استعمال کو ترک کرنے کے لئے کی جانے والی کونسلنگ کے پہلے مرحلہ میں ہی رات کو جلدی سونے اور صبح کی اولین ساعتوں میں بیدار ہونے کی تربیت دی جاتی ہے اور اگر یہ معمولات زندگی میں تبدیلی لاتے ہوئے رات کے اوقات میں جاگنے کے سلسلہ میں بند کروایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کو روکنے میں بھی بڑی کامیابی حاصل ہوگی جو کہ معاشرہ کے لئے فائدہ مند ہے۔3/m/b