36 سال بعد گوداوری میں 70 فیٹ سیلابی پانی ، 3 پمپ ہاوزس میں پانی، 500 کروڑ کے نقصانات
74 مواضعات کا تخلیہ ، 80 گائیں پانی میں بہہ کر ہلاک ، چیف منسٹر کے سی آر کی خصوصی نظر
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : گوداوری میں سیلابی قہر بھیانک صورتحال اختیار کر گئی ہے ۔ بھدرا چلم پوری طرح پانی میں محصور ہوگیا ہے ۔ جنگی خطوط پر راحت کاری کے اقدامات کرنے کے لیے فوج کو طلب کرلیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی ہدایت پر ہیلی کاپٹر کی خدمات دستیاب رکھی گئی ہے ۔ این ڈی آر ایف اور ریسکیو ٹیموں کو بھدرا چلم روانہ کردیا ہے ۔ بارش کم ہوجانے کے باوجود سیلاب کی خطرناک صورتحال ہوگئی ہے ۔ گھنٹہ گھنٹہ کو پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے ۔ بھدرا چلم میں پانی کا بہاؤ 70 فیٹ کو عبور کرچکا ہے ۔ فی الحال گوداوری میں 23.70 لاکھ کیو سکس پانی کا بہاؤ ہے ۔ تاریخ میں تیسری مرتبہ گوداوری میں پانی کا بہاؤ 70 فیصد تک پہونچ چکا ہے ۔ فی الحال ندی 71 فیٹ تک بہہ رہی ہے ۔ حال ہی میں ہوئی موسلا دھار بارش کی وجہ سے بھاری سیلاب امنڈ پڑا ہے ۔ گوداوری کی تاریخ میں تیسری مرتبہ اتنا بھاری سیلاب دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اس سے قبل 16 اگست 1986 کو پہلی مرتبہ 75.6 فیٹ پانی کا بہاؤ تھا اس کے بعد 24 اگست 1990 کو 70.8 فیٹ سیلاب کا بہاؤ تھا ۔ تقریبا 36 سال بعد دوبارہ 70 فیٹ پانی کا بہاؤ ریکارڈ ہوا ہے ۔ ماضی میں بھدرا چلم کے پاس گوداوری 60 فیٹ پانی کا بہاؤ کئی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے ۔ 66 فیٹ سے اوپر بلندی پر صرف تین مرتبہ اور 60 فیٹ سے زیادہ 7 مرتبہ پانی کا بہاؤ دیکھنے کو ملا ہے ۔ پہلی مرتبہ 22 جون 1976 کو 63.9 فیٹ گوداوری کا بہاؤ تھا ۔ 14 اگست 1983 کو 63.5 فیٹ پانی کا بہاؤ تھا ۔ یہ دونوں ریکارڈ 1986 میں پیش آئے ۔ اسی سال 16 اگست کو 75.6 فیٹ پانی کا بہاؤ تھا ۔ چیف منسٹر کے سی آر مسلسل بھدرا چلم کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پی اجئے کمار سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں اور پرگتی بھون میں عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کررہے ہیں ۔ وزیر ٹرانسپورٹ کی اپیل پر چیف منسٹر نے حیدرآباد سے بھدرا چلم ہیلی کاپٹر کے علاوہ دوسری راحت کاری کی اشیاء بھدرا چلم روانہ کرنے کی ہدایت دی ۔ ضلع راجنا سرسلہ میں 80 سے زائد گائے پانی میں بہہ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوگئی ۔ گوداوری میں سیلاب کے پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوجانے سے بھدرا چلم کے 40 سے زائد گاوں پانی میں محصور ہوگئے ہیں ۔ عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے جنگی خطوط پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ راحت کاری کے اقدامات کے لیے انڈین آرمی کو میدان میں اتار دیا گیا ہے ۔ 78 افراد پر مشتمل انفرانٹری وفد 10 ڈاکٹرس ، 23 انجینئرس جملہ 101 ارکان پر مشتمل وفد بھدرا چلم کو پہونچ چکا ہے ۔ کالیشورم پراجکٹ کے دو پمپ ہاوز پانی میں ڈوب گئے ہیں ۔ دریائے گوداوری میں ریکارڈ سطح پر سیلاب کی وجہ سے لکشمی ( میڈی گڈھا ) پمپ ہاوز اور سرسوتی ( اناورم ) پمپ ہاوز پانی میں ڈوب گئے ۔ لکشمی پمپ ہاوز کا انٹیک ویل میں بھی سیلاب کا پانی داخل ہوگا ۔ پانی کے دباؤ سے انٹیک ویل کا فوربے حفاظتی دیوار منہدم ہوگئی اور گیٹ اکھڑ گئے اور پمپ ہاوز میں پانی داخل ہوگیا جس سے پمپ ہاوز کے 17 موٹرس ، سرسوتی پمپ ہاوز کے 12 موٹرس پوری طرح پانی میں ڈوب گئے ۔ موٹرس کے ساتھ پیانل بورڈس ، انورٹرس ، برقی اشیاء وغیرہ تباہ و برباد ہوگئی ۔ عہدیداروں نے 500 کروڑ روپئے کا نقصان ہونے کا اندازہ لگایا ہے ۔ بھدرا چلم علاقہ کے 300 گاوں میں پانی داخل ہوگیا ۔ حکام کی جانب سے 73 گاوں کو پوری طرح خالی کرادیا گیا ہے ۔ 11 گاوں میں جہاں پانی داخل ہوگیا ہے وہاں 40 حاملہ خواتین ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ان کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں ۔ کرناٹک میں ہونے والی بارش سے متحدہ ضلع محبوب نگر کے جورالا پراجکٹ میں سیلاب کا پانی تیزی سے جمع ہورہا ہے ۔ جس سے پراجکٹ کے 23 گیٹس کھول کر 1,46,147 لاکھ کیوسکس پانی چھوڑا جارہا ہے ۔ پراجکٹ میں 9.657 ٹی ایم سی پانی جمع کرنے کی گنجائش ہے ۔ فی الحال 7.48 ٹی ایم سی پانی جمع ہے ۔ ضلع نظام آباد کے سری رام ساگر پراجکٹ میں سیلاب کا بہاؤ جاری ہے ۔ 1,94,200 لاکھ کیوسکس پانی پراجکٹ کو پہونچ رہا ہے ۔ عہدیداروں کی جانب سے 36 گیٹس کھول کر 1.50 لاکھ کیوکس پانی کا اخراج کیا جارہا ہے ۔ ضلع جگتیال میں چار دن قبل پانی میں بہہ جانے والے ضمیر کی نعش آج جھاڑیوں میں پھنسی ہوئی پائی گئی ۔ ریسکیو ٹیم نے نعش کو جھاڑیوں سے برآمد کیا ۔ سرکاری ہاسپٹل میں بعد پوسٹ مارٹم نعش ورثاء کے حوالے کردی گئی ۔ بعد نماز جمعہ ضمیر کی تدفین عمل میں آئی ۔۔ ن