عثمانیہ ہاسپٹل و تلنگانہ ہائیکورٹ کی عمارتیں آئندہ سال مکمل کرنے کی ہدایت

   

تعمیر میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ، سڑکوںکی تعمیر کا مانسون کے بعد آغاز، وزیر عمارات و شوارع وینکٹ ریڈی کا اعلیٰ سطحی اجلاس
حیدرآباد 3 جولائی (سیاست نیوز) وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے عثمانیہ ہاسپٹل اور تلنگانہ ہائی کورٹ کی نئی عمارتوں کی تعمیر کا کام ڈسمبر 2027 تک مکمل کرنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے تلنگانہ کے میگا انفراسٹرکچر پراجکٹ کی پیشرفت کا اعلیٰ سطحی اجلاس میں جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام زیر التواء پراجکٹس کی مقررہ مدت میں تکمیل کی خواہاں ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاست میں معیاری سڑکوں کی تعمیر کے پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ تلنگانہ میں پہلے مرحلہ کے تحت ہیم روڈ کی تعمیر کیلئے 6092 کیلو میٹر کی نشاندہی کی گئی جس پر 13 ہزار کروڑ کے مصارف ہونگے۔ پیکیج 2 کے تحت نلگنڈہ تا محبوب نگر 42 کیلو میٹر کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی میں مزید 10 پیکیجس کا آغاز ہوگا۔ مانسون سیزن کے بعد سڑکوں کی تعمیر کے کام میں تیزی پیدا کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ 6 جولائی کو کریم نگر میں ہیم اور سی آر ایف روڈ پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جائیگا۔ ہائی کورٹ کی نئی عمارت و ججس کے رہائشی کوارٹرس کی راجندر نگر میں تعمیری پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے وینکٹ ریڈی نے زائد تعمیری عملہ کی تعیناتی کے ذریعہ پراجکٹ کی تکمیل کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ و عثمانیہ ہاسپٹل کی نئی عمارتوں کے تعمیری کام ڈسمبر 2027 تک مکمل کئے جائیں۔ حکام نے بتایا کہ ہائی کورٹ کامپلکس کے تعمیری کام 16 فیصد مکمل ہوچکے ہیں۔ وینکٹ ریڈی نے تعمیری عملہ کی تعداد میں اضافہ کرکے تین شفٹ میں تعمیری کام مکمل کرنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے کہا کہ آر اینڈ بی عہدیداروں کو ڈسمبر 2027 تک عمارت کو افتتاح کیلئے تیار کرنا چاہئے ۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ عثمانیہ ہاسپٹل کی نئی عمارت کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے اور ڈسمبر 2027 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صنعت نگر میں ٹمس کی عمارت افتتاح کیلئے تیار ہے۔ الوال اور ایل بی نگر میں ٹمس کی تعمیر کے علاوہ ورنگل میں سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کے تعمیری کام میں تیزی پیدا کرنے کی ہدایت دی۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ تعمیری کاموں میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس میں رکن اسمبلی تانڈور منوہر ریڈی ، انجنیئر ان چیف جیہ بھارتی ، چیف انجنیئرس بی وی راؤ ، راجیشور ریڈی ، دھرما ریڈی ، وسنت نائک اور دوسرے موجود تھے ۔1/k