چیف منسٹر ریونت ریڈی کا مختلف محکموں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس
حیدرآباد۔5۔مارچ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں بھیڑوں کی تقسیم کے سلسلہ میں ہوئے اسکام کی جامع تحقیقات کی جائیں اور ویجلنس کی جانب سے بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی نشاندہی کے ساتھ ہی تمام تفصیلات محکمہ انسداد رشوت ستانی کے حوالہ کرتے ہوئے مقدمات درج کروائے جائیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج سیکریٹریٹ میں محکمہ افزائش مویشیاں ‘ ڈیری ڈیولپمنٹ اور سمکیات کا جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے یہ ہدایات جاری کیں۔ چیف منسٹر نے جائزہ اجلاس کے دوران بھیڑوں اور بکریوں کی تقسیم کے سلسلہ میں ہونے والی بدعنوانیوں کے علاوہ محکمہ سمکیات میں ہونے والی بدعنوانیوں کا سخت نوٹ لیتے ہوئے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلہ میں تحقیقات کا فوری آغاز کریں ۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ سی اے جی رپورٹ میں نشاندہی کے بعد سے ہی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور بعض ملازمین کے اس میں ملوث ہونے کی بھی نشاندہی کی جاچکی ہے ۔ محکمہ افزائش مویشیاں کے عہدیداروں کی جانب سے تفصیلات کے حصول کے بعد چیف منسٹر نے کہا کہ اگر ان بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں میں بے نامی افراد بھی ملوث ہیں تو ان کی نشاندہی کی جائے اور اس بات کا پتہ چلایا جائے کہ وہ کس کے بے نامی کے طور پر یہ بدعنوانیاں انجام دینے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر نے بقایاجات کی ادائیگی کے علاوہ باقاعدہ ان رقومات کی اجرائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ گرین چیانل سے یہ ادائیگیاں کی جائیں ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے ریاست کے تمام 91منڈلوں میں ویٹرنری دواخانوں کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لئے فوری طور پر ٹنڈر طلب کئے جائیں اور مختلف اسکیمات سے استفادہ کے مراکز کے طور پر بھی انہیں استعمال کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ چیف منسٹر کی جانب سے منعقدہ جائزہ اجلاس کے دوران مشیر ریاستی حکومت مسٹر ویم نریندر ریڈی ‘چیف سیکریٹری برائے چیف منسٹر شیشادری‘ اسپیشل چیف سیکریٹری آدھار سنہا‘ محکمہ افزائش مویشیاں‘ ڈیری ڈائریکٹر مسز لکشمی ‘ کیع لاوہ محکمہ سمکیات کے عہدیدار موجود تھے۔3